Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پاکستان کے عوام بہت زیادہ مایوس ہیں اور 2023 مایوسیوں سے نکلنے کا سال ہوگا، حماد اظہر

سابق وفاقی وزیر اور رہنما پی ٹی آئی حماد اظہر نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام بہت زیادہ مایوس ہیں اور 2023 مایوسیوں سے نکلنے کا سال ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر نے وائٹ پیپر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اٹھ ماہ قبل دنیا کے تمام ادارے پاکستان کی معیشت کے لئے مثبت اشارے دے رہے تھے، ہماری انڈسٹری گروتھ کررہی تھی اور ایکسپورٹرز تمام ٹارگٹ پورے کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری معشت خراب ہونے کی چند وجوہات یہ ہیں کہ پی ڈی ایم حکومت نے آئی ایم ایف جانے میں تاخیر کی اور آتے ہی مارکیٹ میں ڈیفالٹ کی فضا پھیلا دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان اٹھ ماہ میں ان لوگوں نے ملک کو تباہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے انڈسٹری بند ہو رہی ہیں  اور انرجی کا بحران آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کی کابینہ سوائے بیرونی دوروں کے کوئی کام نہیں کرتی، حماد اظہر

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے دور میں یونٹ سولہ روپیہ کا تھا اور آج پنتالیس میں ہے جبکہ لوڈ شیڈنگ صفر تھی لیکن اب بجلی آتی ہی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے روس کو ہم نے اپروچ کیا جبکہ سستی گیس اور تیل بھی ہم لے کر آنے تھے لیکن اب یہ گئے ہیں روس سے بات کرنے وہ بھی بلاول نے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت تباہ ہوچکی ہے، معیشت کی بحالی کیلئےعالمی اداروں سے بات کرنے کی ضرورت ہے، معیشت بہترکرنے کیلئے مستحکم حکومت چاہیے اور  2023 مایوسیوں سے نکلنے کا سال ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: ملکی قیادت کا فیصلہ اب صرف عوام کرے گی، حماد اظہر

وفاقی حکومت کیخلاف وائٹ پیپر کے اہم نکات 

وائٹ پیپر کے مطابق اہم ضروریات کی اشیاء میں پنتالیس فیصد اضافہ ہوا اور عام آدمی کی مشکلات میں پہلے سے دو سو فیصد اضافہ ہوا۔

تحریک انصاف کی جانب سے جاری کردہ وائٹ پیپر کے مطابق ن لیگ کے 2018 کے دور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 19 ارب 20 کروڑ ڈالر تھا جبکہ2018 میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 9 ارب 40 کروڑ ڈالر تھے اور 2018میں پاکستانی کرنسی کو 23 اضافہ ویلیو رکھی گئی۔

وائٹ پیپر کے مطابق 2013 سے 2018 میں ایکپسورٹس 10 ارب ڈالر کمی اور امپورٹس 23 ارب ڈالر تک بڑھیں اور 2018 میں جی ڈی پی کی مد میں قرضہ 64 فیصد تک بڑھے ملے۔

پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ 2013 سے 18 میں زراعت اور انڈسٹری میں کوئی سرمایہ کاری نہ ہوئی،2013 سے 18 میں ن لیگ 1.6 ٹریلین کے گردشی قرضہ بڑھائے، ن لیگ نے 2018 میں ملک کا سنگین ترین انرجی بحران چھوڑ گئی۔

پی ٹی آئی دور حکومت کی معیشت

 جاری کردہ وائٹ پیپر کے مطابق پی ٹی آئی دور میں گرتی معیشت کو سنبھالا گیا، پی ٹی آئی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد 32 ارب ڈالرز کے قرضوں کی فنانسنگ کی۔

وائٹ پیپر کے مطابق پی ٹی آئی دور میں کورونا کے باوجود جی ڈی پی گروتھ 6 فیصد تک پہنچی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کو مسلسل کم کیا، مارچ 2022 تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر کو 11 ارب 40 کروڑ ڈالر تک پہنچایا۔

اس کے علاوہ کورونا اور مہنگائی کے سپر سائیکل کے باوجود 55 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کیں، ذراعت کے شعبہ کی گروتھ 4۔4 فیصد کی اور پی ٹی آئی دور میں لارج اسکیل مینیوفیکچرنگ کی گروتھ 11 فیصد سے زائد رہی۔

متعلقہ خبریں