عدالت نے سیکریٹری داخلہ اور آئی جی سندھ سے سیکیورٹی فراہم کیے جانے والی شخصیات کی تفصیلات طلب کرلیں۔
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے رہنما حلیم عادل شیخ کو سیکیورٹی فراہم کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔
درخواست گزار حلیم عادل شیخ کے وکیل ملک الطاف جاوید ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ سندھ حکومت نے حلیم عادل شیخ کو دی گئی سیکیورٹی واپس لے لی، سیکیورٹی واپس لینا سیاسی بدنیتی پر مبنی ہے۔
مزید پڑھیں: پیپلزپارٹی نے ایم کیو ایم کو آگے کردیا تاکہ پتلی گلی سے نکل سکیں، حلیم عادل شیخ
ملک الطاف جاوید ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ سندھ حکومت کو قانون کے مطابق سیکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔
عدالت نے سیکریٹری داخلہ اور آئی جی سندھ سے سیکیورٹی فراہم کیے جانے والی شخصیات کی تفصیلات طلب کرلیں۔
عدالت نے کہا کہ کون کون سی شخصیات کو سیکیورٹی دی گئی؟ منتخب نمائندوں کو کیا سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے؟ نان منتخب کتنی شخصیات کو سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے؟ آئی جی سندھ، سیکریٹری داخلہ صوبے بھر کی سیکیورٹی کی پالیسی پر وضاحت دیں۔
مزید پڑھیں: 13 جماعتیں ہوں یا 3 دھڑے، جمع ہو کر بھی نہیں جیت سکتے، حلیم عادل شیخ
عدالت نے مزید کہا کہ سیکیورٹی فراہم کرنے کے کون سے قوائد ہیں، آگاہ کیا جائے۔
عدالت نے سیکریٹری داخلہ اور آئی جی سندھ سے 9 جنوری کے لیے تفصیلات طلب کرلیں۔



















