وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ادویات اور خوراک کی درآمد پہلی ترجیح اور پٹرولیم مصنوعات دوسری ترجیح ہے۔
تفصیلات کے مطابق اقتصادی ٹیم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پی ٹی آئی کے وائٹ پیپر کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے وائٹ پیپر میں اعدادوشمار و موازنہ درست نہیں اور یہ سیاق و سباق سے ہٹ کر تھا جس میں غیر جانبدارانہ موازانہ کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ موازنے میں نہ تو مہنگائی کے عالمی سائیکل کو مدنظر رکھا اور نہ روس یوکرین جنگ کے اثرات کو شامل کیا گیا، پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا کہ 2018 میں مالیاتی خزانہ سات اعشاریہ چھ فیصد سے زیادہ تھا جبکہ پی ٹی آئی کا یہ دعویٰ غلط ہے کیونکہ مالیاتی خسارہ 5.8 فیصد تھا۔
یہ بھی پڑھیں؛ پاکستان میں آئی ٹی کے شعبے میں پوٹینشل موجود ہے ، اسحاق ڈار
ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح یہ دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی نے ایک سال میں مالیاتی خسارہ کم کیا یہ بھی غلط ہے، حقیقت یہ ہے کہ 2019 میں مالیاتی خسارہ بڑھ 7.9 فیصد ہوگیا تھا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے جاری ہونے والے وائٹ پیپر کے حقائق آپ کے سامنے لانے ضروری ہیں کیونکہ اُس میں سارے اعشاریے اور اعداد و شمار بے بنیاد پیش کیے گئے، پی ڈی ایم کو اپریل 2022 کے بعد حکومت ملی، پی ٹی آئی نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں نہیں بتایا اور نہ ہی سیلاب کے بارے میں بتایا۔
یہ بھی پڑھیں؛ پاکستان اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے،اسحاق ڈار
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف نے پہلے کہا تھا اس سال معاشی شرح نمو 2.7 فیصد رہے گی۔



















