Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

نیب کا مٹیاری موٹروے کرپشن کیس کی تحقیقات خود کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت کی ہدایات پر قومی احتساب بیورو ( نیب) نے مٹیاری موٹروے کرپشن کیس کی تحقیقات مکمل طور پر خود کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین نیب آفتاب سلطان نے سندھ اینٹی کرپشن کے کیس کو نیب عدالت منتقل کرنے کے لیے خط لکھ دیا۔

چیئرمین نیب نے خط میں لکھا کہ نیب نے کیس کی نوعیت دیکھ کر تحقیقات شروع کی ہے اور بنیادی مقصد لوٹی ہوئی رقم برآمد کرنا ہے۔

خط کے متن کے مطابق سندھ اینٹی کرپشن نے کیس سابق ڈی سی مٹیاری عدنان رشید، اسسٹنٹ کمشنر منصور عباسی اور دیگر کے خلاف داخل کیا تھا۔

خط میں بتایا گیا کہ سندھ اینٹی کرپشن نے مٹیاری کرپشن کے حوالے سے سابق ڈپٹی کمشنر عدنان رشید، اسسٹنٹ کمشنر منصور عباسی اور سندھ بینک کے افسر تابش کو گرفتار بھی کیا تھا جبکہ اسسٹنٹ کمشنر منصور سے 42 کروڑ روپے ملنے کا دعوا بھی کیا گیا تھا۔

چیئرمین آفتاب سلطان نے کہا کہ مٹیاری کرپشن کیس کے حوالے سے گرفتار تینوں ملزمان سابق ڈپٹی، اسسٹنٹ کمشنر اور بینک افسر تحقیقات کے بعد جیل منتقل کردیا گیا تھا جبکہ سندھ اینٹی کرپشن کو گرفتار ملزمان سے کوئی خاص معلومات نہ مل سکی ہے۔

چیئرمین نیب نے خط میں اظہار کیا کہ ایک ہی جرم کی تحقیقات دو مختلف اداروں سے ہونا آئین کے آرٹیکل 13 کی خلاف ورزی ہے۔

خط میں مزید کہا گیا کہ مٹیاری کرپشن کیس کے اہم ملزمان صوبائی وزیر کے کوآرڈینٹر اسلم پیرزادہ، سندھ بینک کے مینیجر میر محمد سھاگ اور ڈی سی آفس مٹیاری کے کلرک تاحال عدالت کی ضمانت قبل از گرفتاری کی وجہ سے تحقیقاتی ایجنسیوں کی دسترس تاحال سے باہر ہیں۔

واضح رہے کہ موٹر وے پراجیکٹ میں مٹیاری ضلع میں تاحال 2 ارب 17 کروڑ کے غبن کا تعین ہوا ہے اور ڈپٹی کمشنرمٹیاری عدنان رشید کیس میں پہلے ہی گرفتار ہیں۔

دوسری جانب اینٹی کرپشن سندھ نے ملزم سابق ڈپٹی کمشنر عدنان رشید کی نشاندہی پر اسسٹنٹ کمشنر ہاؤس سعید آباد میں کارروائی کی جہاں سے 42 کروڑ روپے کی رقم برآمد کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ سیڈ کارپوریشن میں کروڑوں روپے کی کرپشن، رپورٹ اسمبلی میں جمع

متعلقہ خبریں