Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پی آئی اے نے سپریم کورٹ میں 250 ملازمین بھرتی کرنے کی اجازت مانگ لی

پی آئی اے نے سپریم کورٹ میں 250 ملازمین بھرتی کرنے کی اجازت مانگ لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پی آئی اے میں پائلٹس اور دیگر عملے کی کمی کے معاملے میں پی آئی اے نے سپریم کورٹ میں 250 ملازمین بھرتی کرنے کی اجازت مانگ لی ہے اور پانچ سالہ فنانشل پلان پر مشتمل اپنی رپورٹ بھی سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2018 سے 2022 تک پی آئی اے میں مختلف وجوہات کی بنا پر 5793 ملازمین نکال دیئے گئے ہیں جبکہ اس وقت پی آئی اے کو فلائٹ آپریشن و سروسز، آئی ٹی اور فنانس کے شعبے میں ماہر افرادی قوت کی قلت کا سامنا ہے۔

پی آئی اے نے حال ہی میں ترکش ایئرلائن کے ساتھ کوڈ شیئر کا معاہدہ کیا ہے اور کوڈ شیئر معاہدے سے سال 2023 میں پی آئی اے کو 205 ارب کا ریونیو متوقع ہے جبکہ اس ریونیو ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے لئے افرادی قوت کی ضرورت ہے اور آئی اے ٹی اے نے بھی پی آئی اے کو ماہر افرادی قوت بڑھانے کی سفارش کی ہے۔

 رپورٹ کا مطابق 2018 میں میں سپریم کورٹ کی جانب سے نئی بھرتیوں پر پابندی سے پی آئی اے ملازمین کی اوسط عمر 45.2 سال ہوگئی ہے جبکہ ملازمین کی اوسط عمر بڑھنے سے آپریشنل کارکردگی میں کمی واقع ہوئی ہے اور حکومت کی مدد کے بغیر پی آئی اے نے سال 2022 میں چار اے320 جہاز خریدے۔

پی آئی اے کو جدید دور میں کمرشل آپریشن میں جدت لانے کے لیے ٹیکنالوجیکل اور کارپوریٹ علم رکھنے والے ملازمین کی ضرورت ہے جبکہ پی آئی اے نے آئی اے ٹی اے کی سفارشات پر مبنی پانچ سالہ فنانشل پلان بھی سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2026 تک پی آئی اے کی سالانہ آمدن 1.6862 ارب ڈالر کی جائے گی جبکہ آئندہ پانچ سالوں میں پی آئی اے کے جہازوں کی تعداد بڑھا کر 49 کی جائے گی۔

برطانیہ اور یورپ کی ہفتہ وار پروازوں کا فیصلہ 7 مارچ 2023 کو ہونے والے آڈٹ کے بعد ہوگا جبکہ 2026 تک تک ملکی سطح پر پی آئی اے کے مسافروں کی تعداد 46 لاکھ تک بڑھائی جائے گی اور 2026 تک سعودی عرب، یو اے ای، گلف، امریکہ، برطانیہ، وسطی ایشیا سمیت دیگر ممالک پر توسیع بھی دی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق 2026 تک تک انٹرنیشنل مسافروں کی تعداد ایک کروڑ 92 لاکھ تک بڑھائی جائے گی جبکہ ملک اور غیر ملکی سطح پر ٹریفک بڑھنے سے فلائٹ آپریشن کے لیے نئے پائلٹس اور کیبن کریو کی ضرورت ہوگی اس لیے عدالت عظمیٰ سے 250 نئے ملازمین بھرتی کرنے کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

انٹرنیشنل ایوی ایشن رولز کے مطابق پی آئی اے کو 486 پائلٹس اور فرسٹ آفیسرز کی ضرورت ہے جبکہ پی آئی اے کے پاس 364 پائلٹس اور فرسٹ آفیسرز موجود ہیں لیکن عالمی معیار کے مطابق پی آئی اے کو سو سے زائد پائلٹس اور فرسٹ آفیسرز کی قلت کا سامنا ہے۔

پائلٹس کی کمی کی وجہ سے بار بار ریگولیٹرز کو ڈیوٹی کے اوقات کار میں اضافے کی درخواست کی جاتی ہے جبکہ جہازوں اور پائلٹس میں عدم تناسب کی وجہ سے فلائٹ آپریشن شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پائلٹس کی کمی کی وجہ سے صرف دسمبر کے مہینے میں 29 فلائٹس منسوخ کرنا پڑیں اور فلائٹس منسوخ کرنے سے شدید مالی نقصان ہو رہا ہے جبکہ عالمی سطح پر بھاری تنخواہوں کی وجہ سے پی آئی اے کو شدید مسابقت کا سامنا بھی ہے۔

پی آئی اے میں 12 پائلٹس کی جلد ریٹائرمنٹ اور این او سی کی درخواستیں زیر التوا ہیں جبکہ 2023 میں 13 پائلٹس کی ریٹائرمنٹ سے پائلٹس کی قلت مزید بڑھ جائے گی اور بھرتیوں پر پابندی ہٹنے کے باوجود پائلٹس کی ٹریننگ پر ایک سال تک کا عرصہ لگے گا۔

رپورٹ کے مطابق 2023 میں میں پی آئی اے کو کم از کم 80 نئے پائلٹس کی اشد ضرورت ہے جبکہ سپریم کورٹ کی جانب سے پابندی لگنے کے بعد 109 پائلٹس پی آئی اے چھوڑ چکے ہیں۔

سال 2023 میں کم از کم 110 کیبن کریو کی ضرورت ہے جبکہ فنانس اور آئی ٹی کے شعبے میں 45 ملازمین کی ارجنٹ ضرورت ہے اور منیجمنٹ لیول پر 15 پروفیشنل کی بھرتیوں کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق 250 ملازمین بھرتی کرنے سے پی آئی اے پر 9 کروڑ 25 لاکھ 50 ہزار کا مالی بوجھ پڑے گا۔

متعلقہ خبریں