چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سینئر ایڈووکیٹ لطیف آفریدی کے قتل کو بڑا نقصان قرار دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں معمول کے مقدمہ کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لطیف آفریدی بہت بڑی شخصیت تھے۔
چیف جسٹس نے وکیل افتخار گیلانی سے استفسار کیا کہ کیا لطیف آفریدی کا تعلق کوہاٹ سے تھا۔
افتخار گیلانی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ لطیف آفریدی کا تعلق فرنٹیئر ریجن سے تھا انہیں بار روم میں قتل کیا گیا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سینئر ایڈووکیٹ لطیف آفریدی کا قتل افسوس ناک واقعہ ہے۔
کیس کی سماعت
پشاور ہائی کورٹ میں سینئر ایڈووکیٹ لطیف آفریدی کے قتل کے کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے قتل کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
عدالت نے قتل کے ملزم عدنان آفریدی کو دو روزہ ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔
دوسری جانب سینئر وکیل کے قتل کے خلاف وکلاء اور بار کونسلز کی اپیل پر عدالتوں میں ہڑتال کی جارہی ہے جبکہ خیبر پختونخوا اور پشاور ہائی کورٹ بار نے تین روزہ سوگ کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔
ہڑتال کے باعث وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے جس کی وجہ سے عدم پیشی پر کئی مقدمات کی سماعت نہ ہوسکی جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں صرف ارجنٹ یا ہنگامی نوعیت کے کیسز کی سماعت کی گئی۔
عبدالطیف آفریدی کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی
اس سے قبل سینئر قانون دان عبدالطیف آفریدی ایڈوکیٹ کی نماز جنازہ پشاور کے علاقے حیات آباد کے باغ ناران ادا کردی گئی۔
نماز جنازہ میں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، وزیرقانون اعظم نذیر تار، دیگر سیاسی و سماجی شخصیات اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پشاور ہائیکورٹ بار روم میں عبدالطیف آفریدی کو فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا تھا اور فائرنگ کرنے والے ایڈووکیٹ سمیع آفریدی شخص کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا گیا تھا۔



















