پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کراچی کی عوام نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت پر اعتماد کیا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مرتضیٰ وہاب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخاب کے دوسرے فیز میں کراچی اورحیدرآباد میں تیر کے امیدوار کامیاب ہوٸے جبکہ کراچی میں بھی پیپلزپارٹی سب سے بڑی جماعت کے طورپرسامنے آٸے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ کراچی شہریوں نے بلاول بھٹو کے نظریئے کا ساتھ دیتے ہوئے دھرنوں، ہڑتالوں کو اہمیت نہیں دی گٸی۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہر کے لوگوں نے پیپلزپارٹی کی طرف دیکھنا شروع کردیا اور 15جنوری کو بھی لوگوں نے اپوزیشن کے ساتھ سیاست کرنے کے بجاٸے ترقیاتی کاموں پر ووٹ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارا جینا مرنا عوام کے ساتھ ہے، مرتضیٰ وہاب
مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سنگل لارجسٹ پارٹی کے طور پر کراچی میں ابھری ہے اور یہ جیت پیپلز پارٹی کے بیانئیے کی جیت ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام نے الزامات اور دھرنوں کی سیاست کو رد کیا ہے اور مثبت کاموں کو سراہتے ہوئے عوام نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا اور مسائل کا حل بتانے والوں کو چنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے پاکستان کو ترجیح دیتے ہوئے مسائل کو حل کرنے کی بات کی اور پہلی بار ماس ٹرانزٹ پر سنجیدگی سے کام ہو رہا ہے ، لوگوں نے دیکھا کراچی کی سڑکوں پر الیکٹرک بسیں چلیں ، 1122 کا پروجیکٹ شروع ہوا اور پھر ووٹ دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے جب سے پارلیمانی سیاست کا آغاز کیا تب سے مسائل کی نشاندہی اور حل کے لئے اپنا کردار ادا کیا اور جو لوگ منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں انکو اتنا کہوں گا کہ لوگوں نے پاکستان پیپلز کی طرف دیکھا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ کے ہر ضلعے میں اگر اس وقت کوئی کام کروا رہا ہے تو چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جماعت کروا رہی ہے اور ایک سیاسی جماعت ہے جو سندھ کے ہر ضلعے میں کامیاب ہوئی ہے۔
رہنما پی پی کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کہ چکا ہے کہ مٸیر کراچی جیالا ہوگا اور ب نتائج بھی سامنے آچکے ہیں، واضح برتری ہے پیپلز پارٹی کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے یہاں پر سندھ ون اور سندھ ٹو کی باتین کی گٸی اور اب کراچی ون اور کراچی ٹو کی باتین کی جاررہی ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے بدلیاتی حلقہ بندیاں منسوخ کیں لیکن الیکشن کمیشن نے اسکو مانا نہیں اور اس نوٹیفکیشن کا فیصلہ آئینی اداروں نے کرناہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن کراتے ہیں تب بھی برے ہیں نہیں کراتے تب بھی برے ہیں ، کام کراتے ہیں تب بھی برے ہیں۔



















