Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ملک بڑے خطرناک موڑ پر کھڑا ہے، عمران خان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ملک بڑے خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین عمران خان نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاکستانیوں، میں کئی چیزیں آپ سے بار بار کہہ چکا ہوں، اور مجھے لگتا ہے کہ اس کا اثر اب لوگوں پر ہونے لگ گیا ہے، لیکن اب میں وہی بات دوبارہ دہرانہ چاہوں گا۔

بنانا ریپبلک میں طاقتور قانون سے اوپر ہوتا ہے

عمران خان نے کہا کہ 26 سال پہلے میں نے اپنی پارٹی کا نام ‘انصاف’ رکھا تھا کیونکہ مجھے اپنے ملک میں انصاف لانا تھا، انسانوں کے معاشرے میں ہی انصاف ہوتا ہے جبکہ بنانا ریپبلک میں انصاف کی کوئی جگہ ہی نہیں ہوتی، وہاں طاقتور قانون سے اوپر ہوتا ہے، اگر آپ دنیا کی تاریخ پڑھیں تو آپ کو ہر جگہ دکھے گا کہ جن ممالک میں قانون کی بالادستی بہتر تھی وہ خوشحال تھے، مدینہ کی ریاست کی بنیاد بھی عدل اور انصاف پر ہی رکھی گئی تھی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمارے آقا حضور اکرم ﷺ نے 1500 سال پہلے ہی فرما دیا تھا کہ وہ قومیں جو طاقتور کیلئے ایک قانون بناتی ہیں اور وہ جرم کرتے ہیں تو ان کو نہیں پکڑتیں اور اگر کوئی کمزور شخص جرم کرے تو ان کو فوری سزا دے دیتی ہیں تو یہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں، یہاں تک کہ پیارے آقا ﷺ نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتیں تو میں ان کے ہاتھ بھی کاٹ دیتا، تو ہم اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عدل اور انصاف ایک ریاست کیلئے کتنا ضروری ہے۔

اللہ نے 70 سال میں مجھے سب دے دیا ہے

ان کا کہنا تھا کہ میں وہ خوش قسمت انسان ہوں کہ 70 سال کا ہوں اور اللہ نے مجھے سب دے دیا ہے، مجھے اب کسی چیز کی خواہش نہیں رہی، مجھے اللہ نے عزت دی، دولت دی اور ہر چیز دی تو میرے لیے اس سے بڑی کیا چیز ہو گی؟

آج تک اتنی تیزی سے کسی قوم نے غربت ختم نہیں کی جتنی جلدی چین نے ختم کی

انہوں نے کہا کہ دنیا میں آج تک اتنی تیزی سے کسی قوم نے غربت ختم نہیں کی جتنی جلدی چین نے ختم کی ہے، ستر کروڑ لوگوں کو پچھلے 30 سال میں انہوں نے غربت سے نکالا ہے، کیونکہ انہوں نے عدل اور انصاف سے کام لیا، اس ہی طرح حضرت علی کا قول ہے کہ کفر کا نظام چل جائے گا لیکن ظلم اور ناانصافی کا نظام نہیں چل سکتا۔

چوروں نے اربوں روپے کے کرپشن کے کیسز معاف کروا لیے

عمران خان نے کہا کہ کون سی قیامت آئی تھی کہ اپریل میں ہماری حکومت گئی ہے، پینسٹ روپے کلو آٹا تھا اور آج ایک سو پینسٹ روپے میں پہنچ گیا ہے؟ کون سی قیامت آئی ہے یہ عوام پوچھ رہی ہے کہ اتنی مہنگائی بڑھ گئی ہے۔ لیکن جو اس ملک کے طاقتور چور تھے انہوں نے عربوں روپے کے اپنے کرپشن کے کیسز معاف کروا لیے۔ اپنے آپ سے سوال پوچھیں کہ ایسا کیوں ہے؟

ہمیں ظلم کے خلاف جہاد کرنا ہے

چیئرمین عمران خان نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ ہم تباہی کے راستے پر کھڑے ہیں جبکہ ہم مسلمان ہیں؟ کیونکہ اللہ نے ایک قانون بنایا ہوا ہے جو ہم ٹھیک سے مان نہیں رہے، نہ ہمارے پاس آزادی ہے نہ یہاں خوشحالی ہے، پوری عوام تنگ ہے۔ اس کی وجہ ایک ہے کہ یہاں ظلم اور ناانصافی کا نظام ہے۔ اس ہی لیے اللہ نے ہم سے کہا ہے کہ ظلم کے سامنے کھڑے ہو اور ظلم کے خلاف جہاد کرو۔

ان کا کہنا تھا کہ میں مخاطب ہونا چاہوں گا اپنے ملک کی عدالتوں اور وکلاء برادری سے کہ آپ ملک کے لیے کھڑے ہوں، میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ ملک کو بچانے کیلئے ہماری مدد کریں، میں صرف اس وقت عوام کیلئے کھڑا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میری آواز کیوں بند کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ فواد چوہدری کو کیوں پکڑا گیا ہے؟ اعظم سواتی کو کیوں پکڑا گیا؟ ارشد شریف کو کیوں شہید کیا گیا؟ شہباز گل پر کیوں تشدد کیا گیا؟ مجھ پر کیوں قاتلانہ حملہ کیا گیا؟ یہ جمہوری نظام ہے؟

عمران خان نے کہا کہ یہ میرا وعدہ ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں میں اس ملک کیلئے لڑتا رہوں گا، اور میں ایسا کیوں ک رہا ہوں؟ کیونکہ میرے بڑوں نے بتایا ہے کہ میں آزاد ملک میں پیدا ہوا ہوں، مجھے جیل سے نہیں ڈرتا اور نہ ہی مجھے موت سے ڈر لگتا ہے، جب میرا جانے کا وقت ہو گا تب ہی میری موت واقع ہو گی، اس لیے میری قوم آپ کو اپنے لیے خود کھڑا ہونا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے محسن نقوی کو نگران وزیر اعلیٰ پنجاب بنا دیا۔ میں ان سے سوال پوچھتا ہوں کہ آپ نے انہیں کس بیسس پر آپ نے ان کا نام منتخب کیا جبکہ ہم نے ایسے نام دیے تھے جو حکومت کی بھی پسند تھے، کیا آپ کو یہ نہیں پتا تھا کہ رجیم چینج میں محسن نقوی سب سے آگے تھا، کیا آپ کو نہیں پتا کہ یہ کرپشن کیس میں پکڑا گیا تھا، کیا آپ کو نہین پتا کہ آصف زرداری صاحب اس کو اپنا بیٹا مانتے ہیں، کیا آپ کو نہیں پتا کہ اس کا چینل بار بار ہمارے خلاف پراپگنڈہ کرتا ہے۔

محسن نقوی نے آتے ہی اپنے رنگ دکھا دیے ہیں

انہوں نے کہا کہ محسن نقوی نے آتے ہی اپنے رنگ دکھا دیے ہیں، فواد چوہدری کو تین دفعہ جج نے طلب کیا اور تنوں بار انہیں آنے نہیں دیا، اس نے سارے ایسے افسر جنہوں نے ہمارے اوپر 25 مئی کو ظلم کیا تھا ان کو واپس لے آیا، کیا اس کو کہتے ہیں نیوٹرل ایمپائر آنا، ابھی سے ہی پولیس ہمارے پیچھے پڑ گئی ہے، یہ صاف اور شفاف الیکشن کرانے کیلئے نہیں آیا بلکہ اپنے پلان پورے کرنے کیلئے آیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہم اپنی عدلیہ سے توقع رکھتے ہیں کہ ہمیں انصاف مہیا کرے، معزز ججز پوری قوم آپ سے توقع کر رہی ہے کہ ہمیں انصاف دلائیں۔

ضرور پڑھیں؛ حکومت عمران خان کو مائنس کر کے الیکشن میں جانا چاہتی ہے، شیخ رشید

 

متعلقہ خبریں