متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ حکومت سندھ نے مانا ہے کہ 53 سیٹیں کم ہیں اور حلقہ بندیاں ختم ہونے کے بعد الیکشن جعلی ہے ۔
احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم رہنما مصطفی کمال نے کہا ہے کہ کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں کے شہری سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا ہم پاکستان کے لئے سیکیورٹی رسک ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: سندھ کے شہری علاقوں کے لوگوں کے ساتھ حق تلفی ہورہی ہے، مصطفیٰ کمال
انہوں نے بتایا کہ جو کچھ یہاں ہورہا پورے پاکستان میں کہیں نہیں ہورہا ہے اور ریاست حکومت سندھ کو روکنے کو تیار نہیں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 98 لاکھ کی آبادی میں کی مردم شماری کے مطابق 209 حلقے تھے جس کے بعدایک کروڑ ساٹھ لاکھ کی آبادی پر دوگنے حلقے ہونے چاہیئے تھے لیکن یہاں آبادی کو کم گنا جارہا ہے اور آبادی سو فیصد بڑھنے پر نشستیں 38 بڑھائی گئیں ۔
رہنما ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ “کراچی سب کا” بینر لگانے سے کچھ نہیں ہوتا، بینر لگانے سے لوگوں کے دل نہیں جیتے جاسکتا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ چند لوگوں کی باتوں میں آکر آپ اپنی وزارت عظمی خطرے میں ڈال رہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے الیکشن میں نا ہونے کے بعد کسی کا بھی میئر ہو فرق نہیں پڑتا۔۔یہ اکیلے کھیل رہے ہیں پھر بھی گول نہیں کرپا رہے ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے وفاقی حکومت مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت کو سمجھانے کے لئے اپنا اثر رسوخ استعمال کریں۔
انہوں نے بتایا ہے کہ فروری کے پہلے ہفتے میں احتجاج کی تیاری شروع کردی ہے ،کراچی کے لوگوں کو سڑکوں پر لائیں گے ۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کو اس وقت بحران سے نکالنے کیلئے اتحاد کی ضرورت ہے، مصطفیٰ کمال



















