سینیٹ اجلاس کے دوران افسران کو انتہائی کم قیمت میں سرکاری گاڑیاں استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس میں اوگرا کی جانب سے سرکاری گاڑیاں افسران کو انتہائی کم قیمت میں استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
اوگرا پول میں موجود گاڑیاں ضرورت پڑنے پر افسران کو فراہم کی جاتی ہیں جو کہ افسران 10 روپے فی کلومیٹر پر سرکاری گاڑیاں استعمال کرتے ہیں جبکہ اوگرا چئیرمین اور ممبران کے لئے سرکاری گاڑی کا ریٹ 3 روپے فی کلو میٹر ہے۔
سینیٹر دنیش کمار نے سستے ریٹ پر گاڑیاں فراہم کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیا اصول ہے کہ افسران تین اور دس روپے فی کلومیٹر گاڑی استعمال کرتے ہیں جبکہ پیٹرول بھی سرکار فراہم کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ بلدیات سندھ کی سرکاری گاڑیاں واپس نہ کرنے پر تین افسران معطل
اس موقع پر وزیر مملکت قانون شہادت اعوان نے کہا کہ یہ فیصلہ اوگرا نے خود نہیں کیا، حکومت کا فیصلہ ہے ۔
دوسری جانب سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ ملک کی سائبر سیکیورٹی ایک بہت بڑا مسئلہ ہےمیں نے جو سوال بھیجا اس پر حکومت نے تسلی بخش جواب نہیں دیا، ہمارے بینک، سرکاری ادارے اور سفارتخانے سب کی سائبر سیکیورٹی غیر محفوظ ہے۔
اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے، میرے خیال میں اس معاملے کو متعلقہ کمیٹی کے حوالے کر دیتے ہیں، کمیٹی اس معاملے کو تفصیل سے دیکھے گی۔
بعدازاں چئیرمین بے سائبر سیکیورٹی کا معاملہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔
اسکے علاوہ سینٹ کو بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے غریب عوام کے لئے پیٹرول سبڈی کے لئے 48 ارب روپے مختص کئے گئے مگر خرچ کچھ نہیں کیا گیا۔
بی آئی ایس پی پروگرام میں 364 ارب سے زائد کا فنڈ مختص کیا گیا جبکہ 31 دسمبر 2022 تک 152 ارب سے زائد خرچ کیے گئے ہیں۔



















