Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پشاور واقعے میں دہشتگردوں کی ذیلی تنظیمیں ملوث ہوسکتی ہیں، آئی جی کے پی

آٓئی جی خیبر پختونخوا معظم جاہ انصاری نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پشاور واقعے میں دہشتگردوں کی ذیلی تنظیمیں ملوث ہوسکتی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پشاور مسجد خودکش دھماکے کے متعلق پریس بریفنگ دیتے ہوئے آئی جی کے پی کا کہنا تھا کہ پشاور پولیس لائن میں 6 ڈی آئی جیز، یونٹس ، کوارٹرز موجود ہیں اور تلاشی صرف گیٹ پر کی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گیٹ پر چیکنگ کی جاتی ہے لیکن اس میں کوتاہی ہوئی ہے اور ہمارے ذہین میں بھی پہلا خیال یہ ہی ا رہا ہے کہ کیسے حملہ اور داخل ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیگی،،یہ بڑی تحقیقات ہیں اس کا نتیجہ برآمد کریں گے جس کے لئے ایک ماہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھ رہے ہیں اور بم دھماکے کی جگہ پر ریسکیو آپریشن مکمل ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شہداء کیلئے جلد پیکج کا اعلان کیا جائے گا، نگران وزیراعلیٰ کے پی

آئی جی کے پی کا کہنا تھا کہ خودکش حملہ آورکےسہولتکار کون تھے اس کی مکمل تحقیقات کی جائے گی اور بارودی مواد جمع کیسے ہوا اس معاملے پر بھی تحقیقات کی جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں استعمال ہونے والا بارودی مواد کا اندازہ ہے دس سے بارہ کلو ہو سکتا ہے جس  کی شاک ویوز سے چھت گر گئی جس سے نقصان زیادہ ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے متعلق پہلے کالعدم نے اعلان کیا پھر تردید کی گئی لیکن ہمارا اندازہ ہے جماعت احرار کے لوگ ملوث ہو سکتے ہیں کیونکہ کالعدم تنظیموں کبھی جو کام نہیں کیا ہوتا وہ کلیم کرتی اور جو کرتی ہیں اس کا انکار کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ حملہ آور کی ڈی این اے سیمپلز لیے گئے ہیں جس سےحملہ آورکی شناخت ممکن ہوسکے گی۔

متعلقہ خبریں