وفاقی کابینہ کی جانب سے پشاور دھماکے اور دہشت گردی کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرلی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں امن و امان کے حالات اور پشاور دھماکے کی ابتدائی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سیکیورٹی صورتحال اور پشاور واقعے پر بریفنگ دی گئی اور دہشتگردی سے نمٹے کے لئے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔
کابینہ میں پشاور دھماکے کی مذمت
وفاقی کابینہ نے پولیس لائنز پشاور دھماکے کی مذمت اور شہداء پولیس لائنز کے لیے فاتحہ خوانی و دعائے مغفرت کی۔
وفاقی کابینہ نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، پوری قوت سے دہشت گردوں کا پیچھا کریں گے۔
اجلاس کے دوران کابینہ ارکان نے بھی پشاور سانحہ پر افسوس کا اظہار کیا اور شہداء کی بلندی درجات کی دعا کی۔
علاوہ ازیں کابینہ اجلاس میں شہداء کے لواحقین سے مکمل ہمدردی کا بھی اظہار کیا گیا۔
وفاقی کابینہ نے ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دہشتگردوں کو کچلنے کے لئے فیصلہ کن کارروائی پر زور دیا۔
اجلاس میں قرارداد کی منظوریاں
ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں پشاور دھماکے اور دہشت گردی کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرلی گئی۔
اس کے علاوہ وفاقی کابینہ نے عمران خان کی جانب سے آصف زرداری پر قتل کی سازش کا الزام لگانے کی مذمت کرتے ہوئے انکے بیان کے خلاف مذمتی قرارداد بھی منظور کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کی پشاور کی مسجد میں خودکش دھماکے کی شدید مذمت
دوسری جانب اجلاس میں کابینہ ارکان نے قومی سلامتی کمیٹی اور پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلانے کی تجویز کردی۔
وزیراعظم کی گفتگو
کابینہ اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کا ناسور دوبارہ سر اٹھارہا ہے، سوال یہ ہے کہ ان دہشتگردوں کو دوبارہ کون واپس لایا؟ کس طرح دوبارہ پاکستان کا امن خراب ہوگیا؟ کس نے کہا تھا یہ جہادی ہیں اور پاکستان کے دوست ہیں؟ کس نے کہا تھا ان لوگوں نے ہتھیار ڈال دیے اور یہ ملک کی ترقی میں حصہ لیں گے۔
وزیراعظم نے اجتماعی کوششوں سے دہشت گردی کے خاتمے کا عزم کرتے ہوئے کہا کہ فوری مناسب اقدامات نہ کیے تو دہشت گردی پاکستان میں پھیل جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس دہشتگردی اور جرائم کے خاتمے میں ہمارا قابل فخر ہر اول دستہ ہے، وزیراعظم



















