صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایف بی آر کو سابقہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے امیدوار کی تقرری پر نظر ثانی کرنے کی ہدایت کر دی۔
تفصیلات کے مطابق صدر مملکت نے ایف بی آر کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر نے تحریری امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کے باوجود امیدوار کو ملازمت کے موقع سے محروم کر دیا تھا، کورونا کی وجہ سے تاخیر سے ڈگری ملنے پر امیدوار کے پاس آخری تاریخ پر ڈگری نہیں تھی، ڈگری کورونا کی وجہ سے تاخیر سے جاری ہوئی جو انسانی کنٹرول سے باہر تھا، تاخیر میں طالب علم کی کوئی غلطی نہیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ یونیورسٹی نے امیدوار کو جون/جولائی 2021 سے کسی بھی یونیورسٹی یا ملازمت کیلئے اہل قرار دیا، ایف بی آر نے ڈگری پر یونیورسٹی کے واضح بیان کو نظر انداز کیا، ایف بی آر نے شکایت کنندہ کے معاملے پر معروضی طور پر غور نہیں کیا، ایف بی آر نے معاملے کی وضاحت کرنے کا موقع فراہم نہ کر کے امیدوار کو حق سے محروم کیا، کورونا انسانی کنٹرول سے باہر تھا، وبا کے دوران بڑے پیمانے پر خصوصی رعایتیں دی گئیں۔
عارف علوی نے کہا کہ آج کل ہر عہدے کے لیے سخت مقابلہ ہے، امیدواروں کی بڑی تعداد سامنے آرہی ہے، انتظامی حکام کی جانب سے منصفانہ کام کرنے کی ذمہ داری وضع کی گئی ہے تاکہ قانون کے مطابق عمل کو یقینی بنایا جا سکے، میں امیدوار کے حق میں پہلے فیصلہ کر چکا ہوں، ایف بی آر نے عمل نہ کر کے بدانتظامی کی، محتسب کے احکامات مسترد کیے جاتے ہیں، سابقہ فاٹا کے کوٹے پر اسسٹنٹ کے عہدے کے لیے شکایت کنندہ کی تقرری پر نظر ثانی کی جائے۔
ایف بی آر کا موقف
ایف بی آر نے اپنا موقف اپناتے ہوئے کہا کہ حمزہ وزیر (شکایت کنندہ) نے اکتوبر 2021 میں ایف بی آر میں اسسٹنٹ کے عہدے کے لیے درخواست دی، حمزہ وزیر نے تحریری امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کی بعد میں انٹرویو کیلئے بھی طلب کیا گیا، امیدوار کو ڈگری ملازمت کا اشتہار شائع ہونے کے 08 ماہ کے بعد جاری کی گئی، اشتہار شائع ہونے کی تاریخ پر امیدوار کے پاس ڈگری نہیں تھی، لہذا، امیدوار پوسٹ کے متعلقہ معیار پر پورا نہیں اترتا۔
ادارے نے کہا کہ وفاقی محتسب نے عہدے پر کسی شخص کا انتخاب اور تقرری ایجنسی کا واحد اختیار قرار دے کر معاملہ چیئرمین ایف بی آر کو بھیج دیا، شکایت کنندہ نے وفاقی محتسب کو نظرثانی کی درخواست دائر کی، وفاقی محتسب نے آخری تاریخ پر بیچلر ڈگری ہولڈر ہونے کا ثبوت نہ ہونے پر درخواست کو مسترد کر دیا، بعد ازاں، حمزہ وزیر نے صدر مملکت کو اپیل دائر کی جسے صدر نے منظور کر لیا۔



















