آج ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں دہشتگردی کی صورتحال پر غور ہوا۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس گورنر ہاؤس میں ہوا جس میں ملکی سیکیورٹی صورتحال سمیت کئی اہم معاملات زیر غور آئے۔
اجلاس میں پشاور پولیس لائنز مسجد میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد کی صورت حال پر غور کیا گیا۔
اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں دہشت گردی کے خاتمے، سی ٹی ڈی اور پولیس کی اپ گریڈیشن کے اقدامات پر بھی غور ہوا۔
کمیٹی نے اجلاس میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان یکساں سوچ اور حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا۔
اجلاس میں کمیٹی کا کہنا تھا کہ علماء مشائخ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ممبر و محراب کا فورم استعمال کریں، علماء عوام کو آگاہ کریں کہ ایسے حملے قطعاً حرام اور خلاف قرآن و سنت ہیں، بے گناہوں کا خون بہانے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، توقع ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تمام قومی سیاسی قیادت ایک میز پر بیٹھے گی۔
یہ بھی پڑھیں؛ وزیر اعظم کا ملکی سیاسی قیادت کو ایک میز پر اکٹھا کرنے کا فیصلہ
اپیکس کمیٹی نے نیکٹا، سی ٹی ڈی اور پولیس کی اپ گریڈیشن تربیت، اسلحہ، ٹیکنالوجی اور دیگر ضروریات کے حوالے سے تجاویز کی اصولی منظوری دے دی۔
خیبرپختونخوا میں فوری طور پر سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹر تعمیر کرنے، پنجاب کی طرز پر خیبرپختونخوا میں جدید فرانزک لیبارٹری کے قیام، خیبر پختونخوا میں اسلام آباد اور لاہور کی طرز پر سیف سٹی منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حسب ضرورت قانون سازی کا فیصلہ کیا گیا۔
اپیکس کمیٹی نے اپیل کی کہ دہشت گردی کے واقعات سے متعلق قومی ذمہ داری کا رویہ اپنایا جائے، بے بنیاد قیاس آرائیاں سوشل میڈیا پر پھیلانے کا حصہ نہ بنیں، پاکستانیوں کا خون بہانے والے دہشت گردوں کو عبرت کا نشان بنائیں گے، معصوم پاکستانیوں پر حملہ کرنے والے ہر صورت سزا پائیں گے۔
کمیٹی کے اجلاس میں سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو بھی دعوت دی گئی تھی، مگر اجلاس میں تحریک انصاف کا کوئی نمائندہ شریک نہیں ہوا۔
اجلاس میں تمام اسٹیک ہو لڈرز، پولیس، رینجرز اور حساس اداروں کے اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی۔



















