وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پیغامات جاری کیے گئے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے یوم یکجہتی کشمیر پر اپنے پیغام میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پاکستان اور دنیا کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی اور یک طرفہ اقدامات کو پاکستان اور کشمیریوں نے یکسر مسترد کردیا۔
اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کے وحشیانہ اقدامات کو اجاگر کرنے کے لیے تمام بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اپنی آواز بلند کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: 5 فروری، کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کا دن
شہباز شریف نے بھارت پر زور دیا کہ وہ پاکستان، اقوام متحدہ اور سب سے بڑھ کر کشمیری عوام کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو پورا کرے۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ہم ان کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک وہ بھارتی جبر سے آزادی حاصل نہیں کر لیتے۔
صدر مملکت کا پیغام
دوسری جانب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے پیغام میں ہندوستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ اور او آئی سی کے مبصرین، بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر تک بلا روک ٹوک رسائی کی اجازت دے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی طرف سے بھارتی قبضے کے خلاف دہائیوں پرانی مزاحمت کے دوران دی گئی بے لوث قربانیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی کشمیر میں کٹھ پتلی حکومت لانے کی کوشش ناکام ہوگی، قمر زمان کائرہ
واضح رہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا دن منایا جارہا ہے، جس کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا ہے۔
پاکستان میں سب سے پہلے کشمیر سے یکجہتی کا دن 5 فروری کو 1991 سے ہر سال منایا جاتا ہے تاہم بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور لاک ڈاؤن کے نفاذ کے باعث اس دن کی اہمیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔
تاہم کم لوگ ہی یہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں اس دن کو منانے کی شروعات کب اور کیسے ہوئی اور کس شخصیت نے سب سے پہلے ریاستی سطح پر اس دن کو منانے کا مطالبہ پیش کیا۔



















