Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

راجہ ریاض لیڈر آف اپوزیشن کا کمرہ خالی کرنے کی تیاری کریں، اسد عمر

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ راجہ ریاض صاحب لیڈر آف اپوزیشن کا کمرہ خالی کرنے کی تیاری کریں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے جاری کردہ بیان میں اسد عمر نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب الیکشن کمیشن کے حکم کو معطل کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے اسپیکر کے سیاسی بنیاد پر کیا گیا فیصلہ معطل کردیا۔

 

سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے مزید کہا کہ 43 تحریک انصاف کے ایم این اے کی رکنیت بحال ہوگئی، راجہ ریاض صاحب لیڈر آف اپوزیشن کا کمرہ خالی کرنے کی تیاری کریں۔

فیصل جاوید

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما فیصل جاوید نے اس حوالے سے اپنے ٹوئٹر پر کہا کہ الحمداللہ! تحریک انصاف اراکین قومی اسمبلی کے استعفوں کی معطلی ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے بہترین فیصلہ کیا ہے، پی ڈی ایم آئین کو اپنی مرضی اور منشا کے مطابق نہیں چلا سکتی۔

فیصل جاوید نے مزید کہا کہ جو انہیں اچھا لگے وہ ہی کر لیں ایسا نہیں چل سکتا، جمہوری معمالات جمہوری طریقے سے ہی حل ہوں گے۔

فواد چوہدری

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی اپنے ٹوئٹر پر  پی ٹی آئی کے استعفوں کی منظوری سے متعلق کہا کہ اسپیکر تھوڑا سا جمہوریت کا پاس رکھیں اور لیڈر آف اپوزیشن کو تبدیل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کریں۔

پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے مزید کہا کہ ہر بات کیلئے عدالت جانا کوئی اچھی پارلیمانی  روائیت نہیں۔

خیال رہے کہ لاہورہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے 43 ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کا حکم معطل کردیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے تحریک انصاف کے 43 ایم این اے کے استعفی منظور کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا تھا۔

عدالت نے 43 حلقوں میں ضمنی الیکشن تاحکم ثانی روک دیا اور الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کے 43 ارکان اسمبلی کے استعفوں کا معاملہ 

پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹرعلی ظفر نے کہا کہ استعفے واپس لینے کے بعد اسپیکر کے پاس اختیار نہیں کہ وہ استعفے منظور کریں۔ ممبران اسمبلی کے استعفیٰ منظور کرنا خلاف قانون اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ ممبران قومی اسمبلی کے استعفے عدالت عظمی کے طے کردہ قوانین کے برعکس منظور کیے گیے۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی سے استعفوں کی منظوری کے بعد الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے 43 ارکان قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کردیا تھا۔

متعلقہ خبریں