Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پاکستان میں زلزلے سے متعلق پیشگوئیاں؛ محکمہ موسمیات کا اہم بیان آگیا

پاکستان میں زلزلے سے متعلق پیشگوئیاں پر محکمہ موسمیات کا اہم بیان آگیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ زلزلہ قدرتی آفت ہے، اس کا علم پہلے سے نہیں ہو سکتا، پہلے سے زلزلے کا علم ہوتا تو ترکیہ میں اتنا جانی و مالی نقصان نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہلکی نوعیت کے زلزلے آتے رہتے ہیں اور آتے رہیں گے، ترکیہ، پاکستان کی فالٹ لائنز میں کوئی مماثلت نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ زیرِ گردش زلزلے سے متعلق پیشگوئیوں کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں بھی زلزلہ آنے والا ہے؟ تہلکہ خیز پیشنگوئی

واضح رہے کہ ترکی اور شام میں زلزلہ آنے کے بعد یہ خبر سامنے آئی تھی کہ اگلے 15 دنوں میں پاکستان اور بھارت میں بھی زلزلہ آسکتا ہے۔

پاکستان اور بھارت میں زلزلے کی پیشگوئی کے بعد لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ترکیہ اور شام میں زلزلہ: 7 ہزار سے زائد ہلاکتیں، تعداد 20 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ

پاکستان میں موسم کی صورتحال بتانے والی ویب سائٹ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ترکی اور مشرق وسطی کے ماہرین فلکیات، ماہرین ارضیات کا خیال ہے کہ پاکستان اور بھارت کو بھی اگلے 15 دنوں میں زلزلے کا خطرہ ہے۔

زلزلے کیوں آتے ہیں؟

زلزلے آخر کیوں آتے؟ آئیے آپ کو بتائے کہ وہ کونسی وجوہات ہیں جو زلزلے آنے کا سبب بنتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے ، پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری بھارتی اور تیسری اریبین ہے۔

 زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں اور زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔

 زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔

خیال رہے زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں ميں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔

اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے۔

کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے فالٹ لائن پر نہیں، اسی لئے یہ علاقے زلزے کے خطرے سے محفوظ تصور کئے جا سکتے ہیں۔

کراچی سمیت سندھ کے بعض ساحلی علاقے خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پر ہیں۔ یہ ساحلی علاقہ 3 پلیٹس کے جنکشن پر واقع ہے جس سے زلزلے اور سونامی کا خطرہ موجود ہے۔

زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔

متعلقہ خبریں