وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم آج مشکل دور سے گزر رہے ہیں لیکن دن رات مل کر کام کرنے سے مشکلات سے نکل جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق والٹن روڈ کی توسیع اور کشادگی کے منصوبے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ڈبل اسٹینڈرڈ نے پاکستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا ہے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے نظام کو ختم کرنا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے ماضی کی تاریخ انتہائی تلخ ہے اور جب تک نظام تبدیل نہں ہوگا ملک ترقی نہیں کرسکے گا۔
انہوں نے کہا کہ مجھ سمیت سب نے پاکستان کو مشکلات سے نکالنا ہوگا اور دن رات محنت کرکے ملک کو ترقی کی طرف لیکر جانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو سستی توانائی کی ضرورت ہے، وزیراعظم
وزیراعظم نے کہا کہ آئندہ ہفتے آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوجائے گا اور جب آئی ایم ایف کا معاہدہ ہوگا تو اس کے بعد منصوبے کے موخر کرنے کی وجوہات پر بات کروں گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ باب پاکستان کا یہ تاریخی مقام ہجرت کر کے آنے والوں کی یاد دلاتا ہے کہمہاجرین نے قائد اعظم کی قیادت میں قربانیاں دیں اور ہزاروں مہاجرین نے باب پاکستان پر قیام کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہباب پاکستان کا تاریخی مقام عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور 25 سال میں یہاں کا میرا آٹھواں یا دسواں دورہ ہے اور باب پاکستان کا منصوبہ دنیا کو قیام پاکستان کی تاریخ بتائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے 1991 میں منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا جس کے بعد 1997 میں منصوبے پر تیزی سے کام شروع کروایا تھا لیکنباب پاکستان منصوبے کو بیدردی سے خراب کیا گیا، 110 کروڑ رو پے باب پاکستان منصوبے میں دفن ہوچکے لیکن نیب نے کبھی باب پاکستان منصوبے میں غبن کرنے والوں کا احتساب کیوں نہ کیا؟۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے ادوار میں نیب میں انصاف کا قتل عام کیا گیا، بے گناہ لوگوں کو چن چن کر دیوار سے لگایا گیا لیکن میری دعا ہے نیب عقوبت خانے میں دشمن بھی نہ جائے۔
اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے ہر دور میں باب پاکستان کے منصوبے پر کام کیا گیا ہے لیکن اس منصوبے پر سرکاری خزانے کا استعمال نہیں کیا جائیگا۔
انہوں نے کہا ہے کہ شہباز شریف کے دور حکومت میں یہاں پارکس، روڈ اور دیگر منصوبے بنے تھے اور اس منصوبے سے بھی والٹن روڈ کے رہائیشوں کو فائدہ پہنچے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ایسے منصوبے ملک بھر میں بننے چاہیئے جو اپنے اخراجات بھی خود اٹھائے اور اور ان کے انفرا اسٹکچر کے لئے سرکار کے خزانوں میں پیسے بھی دیں تاکہ لوگوں کی زندگی آسان ہو۔
انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لئے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ بہت ضروری ہے۔



















