وفاقی وزیر برائے ماحولیات سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کو 2025 تک پانی کی شدید کمی کا سامنا ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق ایکسپو سینٹر میں پاکستان میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس سے وفاقی وزیر برائے ماحولیات سینیٹر شیری رحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانی بقا کے لئے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے غیر روایتی خطرات کا سامنا ہے، پاکستان نے گذشتہ سال صدی کے بدترین سیلاب کا سامنا کیا ہے، سیلاب سے تین کروڑ سے زائد لوگ متاثر ہوئے اور ایسے واقعات یاد دلاتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی حقیقت ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث سیلاب اور قحط سالی کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سمندری درجہ حرارت بڑھنے سے سمندری حیات کو شدید خطرات لاحق ہیں، سمندر کی سطح بڑھنے کی رفتار اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر پوری دنیا میں ایک جیسا نہیں ہے، 2022 میں دنیا کی گرم ترین جگہ پاکستان میں تھی۔
یہ بھی پڑھیں؛ تحریکِ انصاف کو تاریخی شکست ملی ہے،شیری رحمان
شیری رحمان نے کہا کہ سندھ میں ہونے والی مسلسل بارش اس خطے میں کبھی نہیں ہوئی، پولر ریجن کے باہر دنیا سے سب سے زیادہ گلیشیئر پاکستان میں ہیں، گلیشیئر پگھلنے سے شمالی علاقہ جات میں بھی سیلابی صورتحال رہی۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے سمندروں میں 200 سے زائد ڈیڈ زون ہیں، مائیکرو پلاسٹک سمندر کو آلودہ کررہا ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف کوششیں انفرادی سطح پر بھی ہونی چاہیئے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو 2025 تک پانی کی شدید کمی کا سامنا ہوگا۔
شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان دنیا میں کاربن اخراج کا ذمہ دار نہیں ہے، پاکستان شدید موسمیاتی اثرات کا سامنا کررہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں؛ پیپلز پارٹی جہموری نظام کے لئے جنگ لڑ رہی ہے، شیری رحمان
انہوں نے کہا کہ دنیا کو امن کی ضرورت ہے اور جنگ بھی دنیا کے کاربن اخراج میں اضافے کا سبب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران کاربن اخراج کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں، مینگرووز کاربن اخراج کو کم کرتا ہے۔
وفاقی وزیر برائے ماحولیات سینیٹر شیری رحمان نے مزید کہا کہ جنوبی ایشیا میں موسمیاتی تبدیلوں کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا جبکہ انڈس ڈیلٹا بلیو پراجیکٹ کے تحت مینگرووز کو بڑھانے پر کام کررہے ہیں۔



















