لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کے معاملے پر الیکشن کمیشن کو رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس جواد حسن کی سربراہی میں پنجاب میں الیکشن کی تاریخ نہ دینے پر الیکشن کمیشن اور گورنر پنجاب کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
دوران سماعت جسٹس جوادحسن نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ عدالت نے عمل درآمد کی درخواست کل دو بجے ہی نمٹائی ہے، آپ کو اتنی جلدی کیا ہے، کیا آپ کو عدالتوں پر اعتماد نہیں ہے؟
عدالت نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن اور گورنر کے وکیل کہاں ہیں؟ کیا الیکشن کمیشن نے کوئی اپیل دائر کی ہے؟ سوال کا جواب دیتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہفتہ اتوار کو چھٹی تھی جس کی وجہ سے ابھی اپیل دائر نہیں کی گئی۔
عدالت نے کہا کہ عدالت سات گھنٹوں میں فیصلہ کرسکتی ہے تو وکیل تین گھنٹوں میں اپیل دائر نہیں کرسکتا۔ عدالت نے اپنا کام کردیا ہے، اب عدالت انتظار کر رہی ہے وہ کیا کر رہے ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے پریس ریلیز جاری کی ہے، گورنر نے تاریخ دینے سے انکار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 90 روز میں انتخابات نہ کرانا آئین کی خلاف ورزی ہے
جسٹس جواد حسن نے مزید کہا کہ عدالت پریس ریلیزوں کو نہیں مانتی۔ الیکشن کمیشن کے پاس اپیل کے لیے 20 روز ہیں۔ آپ انتظار کریں۔
بعد ازاں عدالت نے الیکشن کمیشن کو اب تک کی پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ توہین عدالت کی درخواست ووٹر شبیر اسماعیل نے اپنے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے توسط سے لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی تھی۔



















