پیٹرول کے بعد گیس کی قیمت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔
اوگرا نے گیس کے نرخوں میں 113 فیصد تک اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، پیٹرولیم ڈویژن کی ایڈوائس پر گیس ٹیرف میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق گھریلو صارفین سمیت مختلف شعبوں کیلئے گیس 16 تا 113 فیصد مہنگی کردی گئی ہے جبکہ گھریلو صارفین کو پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ کی 12 کیٹگریز میں تقسیم کردیا گیا ہے۔
نوٹیفیکشن کے مطابق پروٹیکٹڈ صارفین پر 50 روپے فکسڈ چارجز عائد ہوئے ہیں جبکہ نان پروٹیکٹڈ صارفین پر 500 روپے فکسڈ چارجز عائد کئے گئے ہیں۔
25 کیوبک میٹرماہانہ گیس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو استثنیٰ دیا گیا ہے جبکہ دیگر گھریلو صارفین کے ٹیرف میں 25 تا 113 فیصد تک اضافہ کردیا گیا۔
کمرشل صارفین کے لیے گیس کی قیمت میں 28 روپے 6 پیسے فی کلو اضافہ ہوا جس کے بعد نئی قیمت 1650 روپے ہوگئی ہے۔
پاور سیکٹر کے لیے گیس کی قیمت میں 22 روپے 8 پیسے فی کلو اضافہ ہوا جس کے بعد نئی قیمت 1050 روپے ہوگئی ہے۔
صنعتوں کے لیے گیس میں 34 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے جس کے بعد نئی قیمت 1100 روپے ہوگئی ہے۔
سی این جی شعبے کے لیے گیس 31 روپے فی کلو مہنگی ہوگئی جس کے بعد نئی قیمت 1800 روپے ہوگئی ہے۔
فرٹیلائزر کے لیے گیس کی قیمت 46 روپے فی کلو مہنگی ہوگئی جس کے بعد نئی قیمت 1500 روپے فی کلو ہوگئی۔
سیمنٹ سیکٹر کے لیے گیس 17 روپے 46 پیسے اضافہ ہوا جس کے بعد نئی قیمت 1500 روپے فی کلو ہوگئی ہے۔
گیس کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جنوری سے 30 جون 2023 تک کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ماہانہ 100 کیوبک میٹر گیس صارفین کیلئے 100 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مہنگی ہوئی،150 کیوبک میٹر والے گھریلو صارفین کیلئے گیس 47 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مہنگی ہوئی، کیوبک میٹر والے گھریلو صارفین کیلئے گیس 247 روپے 200 فی ایم ایم بی ٹی یو مزید مہنگی ہوئی، 300 کیوبک میٹر والے گھریلیو صارفین کیلئے گیس 362 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مہنگی ہوئی جبکہ ماہانہ 400 کیوبک گیس صارفین کیلئے گیس 893 روپے روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مہنگی ہوئی ہے۔



















