وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ سخت معاشی حالات کے پیش نظر ناخوشگوار فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔
احسن اقبال نے سی ای او کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو مشکل معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، قومی وحدت، سیاسی استحکام اور پالیسی کے تسلسل سے حالات بدل سکتے ہیں۔
دنیا کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا ہے
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث 30 ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا، گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف سے سخت معاہدہ کیا پھر اسکے برخلاف عمل کیا۔
انکا کہنا ہے کہ پاکستان کو عالمی مالیاتی ادارے کے سامنے اعتماد کے بحران کا سامنا ہے، سخت معاشی حالات کے پیش نظر ناخوشگوار فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اس وقت معاشی بحران سے گزر رہا ہے، احسن اقبال
وفاقی وزیر نے کہا کہ2017 میں عالمی برادری کا اعتماد بحال کیا، ملک میں امن امان قائم کیا، سرمایہ کاری کے لئے موزوں حالات پیدا ہوئے، 2013 – 17 میں سی پیک منصوبوں کے ذریعے سرمایہ کاری آئی اور پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ بہتر ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ جس مقام پر کھڑے ہیں تقاضا ہے کہ سنجیدگی سے خود احتسابی کریں، پاکستان کا قرضوں کی ادائیگی کے لئے بجٹ 5000 ارب ڈالر سے زائد ہو گیا ہے، قرضوں پر انحصار والی معیشت پائیدار ترقی کا راستہ نہیں، ترقی کرنے والے ممالک نے برآمداتی معیشت کو اپنایا۔
ہر ادارے کو اپنے دائرہ کار میں کام کرنا ہوگا
احسن اقبال نے کہا کہ سرمایہ کاری اور پیداوار کو برآمدات کے ذریعے ڈالر کمانے کی صلاحیت سے ضم کرنا ہوگا، ہمارے مستقبل کا انحصار برآمدات کو 32 ارب ڈالر سے 100 ارب ڈالر تک کم سے کم مدت میں بڑھانے میں ہے۔
انکا کہنا ہے کہ سیاستدان، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کو ماضی سے سبق حاصل کرنا ہو گا، ہر ادارے کو اپنے دائرہ کار میں کام کرنا ہوگا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ 2017 میں سپریم کورٹ کے نواز شریف کیخلاف انتقامی فیصلے نے پاکستان کو دلدل میں دھنسا دیا، انسانی تاریخ میں کوئی مثال نہیں کہ کسی ملک کو قدرت نے اربوں ڈالر کے معدنیات سے نوازا ہو، وہ ایک ڈالر کمائے بغیر 9ارب ڈالر کا پھندہ گلے میں ڈالے۔
پاکستان کو ہم سب نے ملکر ایجائیل ایکانومی میں تبدیل کرینگے
انہوں نے کہا کہ ریکوڈیک کے معدنی ذخیرہ کو ایک عدالتی فیصلہ نے پاکستان کے لئے بدترین آزمائش بنا دیا۔ ملک کو ایکسپورٹ ایمرجینسی کے ذریعے ہی ہم معاشی بحران سے نکل سکتے ہیں۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ کارپوریٹ سیکٹر کو برآمدات میں اضافے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہے، پاکستان کو ہم سب نے ملکر فریجائیل ایکانومی سے ایجائیل ایکانومی میں تبدیل کریں گے۔



















