لاہور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے استعفوں کے معاملے پر اسپیکر قومی اسمبلی سمیت دیگر فریقین سے جواب طلب کرلیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس شاہد کریم لاہور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے 43 راکین اسمبلی کے استعفوں کی منظوری اور اسپیکر کے نوٹیفکیشن کے خلاف کیس کی سماعت کی۔
فواد چوہدری اور دیگر اراکین کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں اپنے دلائل دیے۔
عدالت نے اسپیکر کے نوٹیفکیشن پر حکم امتناعی کی فوری استدعا مسترد کر کے الیکشن کمیشن، اسپیکر قومی اسمبلی اور دیگر فریقین سے7 مارچ کو جواب طلب کرلیا۔
درخواست میں مؤقف پیش کیا گیا تھا کہ اسپیکر نے استعفے منظور کرنے سے قبل ارکان کا موقف نہیں سنا، اراکین اسمبلی کو ڈی نوٹیفاٸی کرنے کا الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت قومی حلقوں کے ضمنی انتخابات کے شیڈول پر بھی عمل درآمد روکے۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے ریاض فتیانہ سمیت دیگر نے استعفوں کی منظوری کے خلاف درخواست لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی تھی۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی سے استعفوں کی منظوری کے بعد الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے 43 ارکان قومی اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کردیا تھا۔
پی ٹی آئی وکیل کی میڈیا سے گفتگو
کیس کی سماعت کے بعد پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے لاہور ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا موقف واضع ہے کہ اسپیکر کا اراکین کی معطلی کا اقدام غیر قانونی ہے، اسپیکر کے لئے اراکین کو بلا کر موقف سننا قانونی تقاضا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت سے استدعا کی ہے کہ اسپیکر کا اودام کالعدم قرار دیا جائے۔ مزید ستر اراکین کی معطلی کی درخواست میں بھی ہمارا یہی موقف ہے۔
بیرسٹر علی ظفر نے مزید کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ اسمبلی میں جانے کی اجازت دی جائے تاکہ ہم اپنی ذمہ داریاں پوری کر سکیں۔



















