پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ آڈیو ریکارڈنگ غیر قانونی حرکت ہے۔
سابق وفاقی وزیر شاہ محمود قریشی نے بول نیوز سے کفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آڈیو کے استعمال کے سیاسی مقاصد ہیں، کون اختیار دیتا ہے کہ کسی کی گفتگو ریکارڈ کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے صدر کو خط میں ایک حوالہ آڈیو ریکارڈ کا بھی دیا ہے، کس کو اختیار ہے کہ منتخب وزیراعظم کی گفتگو ریکارڈ کرے۔
اعتزاز احسن کی گفتگو
دوسری جانب معروف قانون دان بیرسٹر اعتزاز احسن نے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری پرویزالہٰی کا فون ٹیپ کیا گیا، وزیرداخلہ کے پاس کہاں سے آڈیو آگئی۔
انہوں نے کہا کہ کال ریکارڈ کرنا جرم ہے اس سے اسمبلی تحلیل ہوجاتی ہے، مریم نواز نے پریس کانفرنس میں ویڈیو دکھائی، عدالت میں پیش نہیں کی۔
انکا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نااہل ہے، چیف الیکشن کمشنر کو الیکشن کے لیے تیار ہونا چاہیے تھا، انکو الیکشن کا حکم دینا چاہیے۔
بیرسٹر اعتزاز احسن نے مزید کہا کہ الیکشن سے معذوری کا اظہار بہانے ہیں، کیا چیف الیکشن کمشنر نے پرنٹنگ کارپوریشن کو لکھا کہ کاغذ پہنچاؤ، اسمبلی گورنر نے تحلیل نہیں کی تو تاریخ چیف الیکشن کمشنر نے دینی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے دوستی ہے مگر کسی اور پارٹی میں شمولیت کا امکان نہیں، اعتزاز احسن
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالہیٰ اور انکے وکلاء کی مبینہ آڈیو ریلیز کردی تھی۔
رانا ثناءاللہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں اس آڈیو پر یہی کہنا چاہوں گا کہ اس سے پہلے بھی نوازشرید کے حوالے سے آڈیوز سامنے آتی رہی ہیں جس میں ارشد ملک نے کہا کہ کس طرح اس سے کام کروائے جاتے رہے ، اس آڈیوز میں نام لے کر کہا گیا لہذا ان آڈیوز پر کسی قسم کے ایکشن کا نا ہونا اس بات کو شہہ ملی ہے
انہوں نے مزید کہا تھا کہ پرویز الہٰی کس دیدہ دلیری سے ملک کی سب سے بڑی عدالت کو مینیج کررہے ہیں، ایف آئی اے مبینہ آڈیو کا پہلے فرانزک کروائے پھر مقدمہ درج کرے، میں چیف جسٹس پاکستان سے گزارش کروں گا کہ اس آڈیو کا نوٹس لیں۔



















