Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

لاہور: بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم جاری

لاہور میں ڈی سی لاہور رافعہ حیدرکی زیرِ نگرانی بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم جاری ہے۔

 تفصیلات کے مطابق ڈی سی لاہور نے پولیو مہم میں دو دن کی توسیع کے بعد پہلے اضافی دن کی کارکردگی کاجائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ پہلے پانچ دنوں میں گھروں سے غیر حاضر 69 ہزار 375 بچوں کو قطرے پلا دیئے گئے ہیں جبکہ باقی 1 لاکھ 4 ہزار 353 بچوں کوقطرے پلانے کے لیے انتظامیہ پوری طرح متحرک ہے۔

 ڈی سی لاہور نے تمام اے سی کوچھٹی کے دن بھی فیلڈ میں متحرک رہنے کہ ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پولیو مہم میں ہر صورت 100 فی صد ٹارگٹ کوحاصل کرنا ہے۔

19496 بچوں کے گھروں کو تالے لگے پائے گئے، ڈی سی لاہور رافعہ حیدر

ڈی سی لاہور رافعہ حیدر نے بتایا کہ لاہور میں گھروں سے غیر حاضر بچوں میں سے 14392 یونین کونسل سے باہر ہیں جبکہ 32928 بچے ٹاؤن سے باہر ہیں  علاوازیں 37537  بچے ضلع سے باہر رپورٹ ہوئے ہیں۔

پولیو مہم میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی،ڈی سی لاہور رافعہ حیدر

ڈی سی لاہوررافعہ حیدر کا کہنا ہے کہ حالیہ پولیو مہم میں 14279 دوسرے اضلاع سے آئے  ہوئے بچوں کو بھی پولیو کے قطرے لاہور میں پلائے گئے ہیں۔

رافعہ حیدر  نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ پولیو مہم میں کسی قسم کی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور کوتاہی برتنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا تاہم اچھا کام کرنے والوں کی عزت افزائی ہوگی۔

خیال رہے کہ لاہور میں پولیو کے دو کیسز سامنے آنے کے بعد پنجاب کے پانچ اضلاع میں انسداد پولیو مہم 13  فروری  سےشروع کردی گئی تھی اور  ملک کے 39 اضلاع میں پولیو مہم کے تحت 60 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پولیو وائرس کیسے پھیلتا ہے

پولیو کی بنیادی وجہ انسانی خوراک کی نالی کے ذریعے جسم میں داخل ہونے والا وائرس ہے جیسے عام طور پر پولیو وائرس کہتے ہیں۔ یہ وائرس انسانی فضلے اور منہ کے راستے سے پھیلتا ہے۔ پولیو وائرس منہ کے راستے سے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے اور انتڑیوں میں پھلنا پھولنا شروع کردیتا ہے۔ اس وائرس سے متاثر لوگ اس وائرس کو ماحول میں خارج کردیتے ہیں جہاں یہ کئی ہفتوں تک رہ سکتا ہے اور خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں صفائی کا خاص انتظام نہ ہو وہاں گلی محلے اور علاقے میں بھی پھیل سکتا ہے۔ پولیو کا یہ وائرس (Poliomyelitis) کسی بھی عمر کے انسان کو متاثر کرسکتا ہے لیکن یہ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو نہ صرف مفلوج کرسکتا ہے بلکہ ان کی موت کا بھی باعث بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں