کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر حملے میں زخمی ہونے والا سیکیورٹی ڈویژن کا اہلکار عبدالطیف زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگیا۔
اسپیشل سیکیورٹی یونٹ کے ترجمان نے بتایا کہ شہید ہونے والے سیکیورٹی ڈویژن کے اہلکار عبدالطیف کا تعلق سیکیورٹی-I سے تھا۔
کراچی پولیس چیف آفس پر حملہ
شہید اہلکاروں کی تعداد 5 ہوگئی#BOLNews #KPOAttack pic.twitter.com/7XjnZ6iLbb— BOL Network (@BOLNETWORK) February 19, 2023
اسپتال ذرائع نے بتایا کہ کراچی پولیس آفس حملے میں سیکیورٹی زون ون کا پولیس کانسٹیبل عبدالطیف شہید ہوگیا ہے۔
واضح رہے کہ دہشت گردی کے واقعے میں پولیس اور رینجرز اہلکار سمیت پانچ لوگ شہید ہوچکے ہیں۔
دوسری جانب کراچی پولیس آفس پر حملے سے متعلق زخمی سب انسکپٹر عبدالرحیم نے کہا کہ جب ہم وہاں پہنچے فائرنگ اور دستی بم دھماکے ہو رہے تھے، پہلے فلور پر کچھ نہیں تھا سیکنڈ فلور پر فائرنگ ہوئی، سیکٹر کمانڈر توقیر اور ونگ کمانڈر کرنل صفدر کمانڈ کر رہے تھے۔
عبدالرحیم نے مزید کہا کہ ہمارے حوصلے پست نہیں ہو سکتے، میں اب بھی لڑنے کو تیار ہوں۔
حملے میں کراچی پولیس کی کوتاہی
پولیس کے دفتر پر حملے میں کراچی پولیس کی کوتاہی سامنے آئی ہے، سفارش کے باوجود کے پی او کے سیکیورٹی انتظامات بہتر نہیں کیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی پولیس آفس پر حملہ، 100 سے زائد نمبرز مشکوک قرار
ذرائع کے مطابق اسٹاک ایکسچینج پر حملے کے بعد عملے نے سیکیورٹی بہتر کرنے کی سفارش کی تھی، 29 جون کو اسٹاک ایکسچینج پر حملے کے بعد 11 جولائی 2020 کو سیکیورٹی اجلاس ہوا تھا جس میں کے پی او میں ایمرجنسی سیڑھیاں لگانے کی سفارش کی گئی تھی اور عمارت کی چوتھی منزل پر گرل لگانے کی بھی سفارش کی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں صدر پولیس لائن کے راستے پر بیریئر لگانے کا کہا گیا تھا، صدر پولیس لائن میں مسجد کی دیوار پر خاردار تار لگانے کی بھی سفارش کی گئی تھی اور گراؤنڈ فلور پر بنے کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کی سیکیورٹی بھی بڑھانے کی سفارش کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی پولیس آفس حملہ؛ پولیس اور رینجرز اہلکار سمیت 4 شہید، تمام دہشت گرد جہنم واصل
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت کے اے آئی جی غلام نبی میمن نے نوٹ شیٹ پر احکامات دیے مگر فنڈ جاری نہیں کیے، تین سال سے سفارشات پر عمل نہیں کیا جاسکا۔
واضح رہے کہ جمعے کی شب کراچی پولیس آفس پر ہونے والے حملے میں تمام دہشت گرد مارے گئے تھے جبکہ پولیس اور رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد شہید اور 18 زخمی ہوئے تھے۔
کراچی پولیس آفس (کے پی او) پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوابی ایکشن کے دوران 1 دہشت گرد عمارت کی چوتھی منزل پر جبکہ 2 چھت پر مارے گئے تھے۔



















