Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کراچی پولیس آفس پر حملے نے سب کو ہلادیا ہے لیکن ہمارا مورال اور بھی زیادہ پختہ ہوگا، مراد علی شاہ

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی پولیس آفس پر حملے نے سب کو ہلادیا ہے لیکن ہمارا مورال اور بھی زیادہ پختہ ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر آغا سراج درانی کی صدارت میں ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا جس میں کراچی پولیس آفس میں حملے میں شہداء کے لیے دعا مغفرت کیگئی جبکہ زخمیوں کی صحت یابی کے لئے دعا بھی کی گئی۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کراچی پولیس آفس پر حملے پر پالیسی بیان 

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی پولیس آفس پر حملے پر پالیسی بیان کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے سات بجکر 5 منٹ پر حملہ کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تین دہشت گرد تھے جو ٹویوٹا کرولا پر آئے، تین دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئے اور اندر آتے ہی انہوں نے فائرنگ شروع کی اور ہینڈ گرینڈ مارے ۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اور رینجرز نے 5 سے 10 منٹ میں ریسپانس کیا جبکہ ہمارا مقصد تھا کم سے کم نقصان سے یہ صورتحال کنٹرول کریں اور بڑی بہادری سے لائٹس آف کی تاکہ یہ لوگوں کو یرغمال نہ بنا سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہر زبان بولنے والا اہلکار وہاں موجود تھا ، سارے پاکستانی وہاں موجود تھے، ہم نے نیوی سے ہیلی کاپٹر کے لیے کہا تھا لیکن اس کی ضرورت نہیں پڑی۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ 5 اہلکار شہید ہوئے ہیں جبکہ 18 زخمی ہوئے تھے اورچھ یا سات کا علاج ابھی بھی ہورہا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ایک مقدمہ درج ہوا ہے جس میں سی ٹی ڈی کو اس کی تفتیش دی گئی ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ دو دہشت گرد کی اسی وقت شناخت کی گئی تھی جبکہ تیسرے کی شناخت ابھی جاری ہے، اس کے حوالے سے ابھی نہیں بتا سکتا ہوں، ان کے ساتھ دو اور لوگ موٹر سائیکل پر آئے تھے  ان کا پتا چلا لیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی پولیس آفس حملہ؛ پولیس اور رینجرز اہلکار سمیت 4 شہید، تمام دہشت گرد جہنم واصل

انہوں نے کہا کہ اس کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعہ نے ہم سب کو ہلا دیا ہے لیکن اس سے ہمارا مورال اور بھی زیادہ پختہ ہوگا، جو چاہتے تھے کہ طالبان ادھر آئیں وہ آج ریسپونسبل ہیں ۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ یہ پورا پاکستان کراس کرکے یہاں پہنچے، ان کے ساتھ خودکش جیکٹ اور اسلحہ بھی تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس اور مضبوط ہونی چاہیے جس پر ہم کام کررہے ہیں، ہم نے ٹیکنکل سپورٹ کے لیے کافی چیزیں منظور کی ہیں اور ہمیں سیکیورٹی کو مزید دیکھنا ہوگا۔

کراچی پولیس آفس پر حملے کی مذمتی قرارداد

بعدازاں سندھ اسمبلی اجلاس کے دوران کراچی پولیس آفس پر حملے کی مذمتی قرارداد منظور کرلی گئی۔

پیپلز پارٹی کی شرمیلا فاروقی نے قرارداد پیش کی اور کہا کہ ہمارے ملک میں دہشت گردی ہوئی، پہلے پشاور میں دہشت گردی ہوئی اور پھر کراچی میں حملہ ہوا ۔

اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے خرم شیر زمان نے بھی کراچی پولیس آفس پر حملے کی قرار داد پیش کی  جبکہ شہداء کو خراج عقیدت بھی پیش کیا گیا۔

متعلقہ خبریں