Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

جیل بھرو تحریک کا آغاز، شاہ محمود قریشی سمیت پارٹی کی سینئر قیادت گرفتار

جیل بھرو تحریک کا آغاز ہوگیا ہے، تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی سمیت اسد عمر، عمر چیمہ، اعظم سواتی، محمد مدنی، زبیر نیازی اور دیگر کو بھی کرلیا گیا ہے، پولیس نے قیدیوں والی گاڑی میں بٹھا لیا۔

ذرائع پنجاب حکومت کے مطابق تحریک انصاف کی جیل بھرو تحریک میں اب تک پی ٹی آئی کے ٹوٹل 81 لوگوں نے لاہور میں پولیس کو گرفتاری دی ۔

ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے گرفتار کارکنوں کی گنتی مکمل کر کے رپورٹ پنجاب حکومت کو بجھوا دی، گرفتار کارکنوں اور قائدین کو فی الحال کوٹ لکھپت جیل میں رکھا گیا ہے ۔

دوسری جانب قیدیوں والی وین کوٹ لکھپت جیل پہنچی تو اس میں شاہ محمود قریشی ،اسد عمر،اعظم سواتی،عمر سرفراز چیمہ موجود تھے جب کہ پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد بھی ساتھ موجود تھی۔

پی ٹی آئی کارکنان قیدیوں والی وین کی چھت پر بیٹھے ہوئے ہیں، حماد اظہر اور دیگر پی ٹی آئی رہنما اپنی اپنی گاڑیوں میں قیدیوں والی وین کے ساتھ کوٹ لکھپت پہنچے۔

کوٹ لکھپت جیل جیل کے مرکزی دروازے پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، اس موقع پر اینٹی رائٹ فورس کے اہلکاروں نے پوزیشنز سنبھال لیں۔

اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی کال پر کارکن جیل بھرو تحریک کے لئے تیار ہوگئے ہیں، جیل بھرو تحریک کا آج لاہور سے آغاز ہوگیا جس میں پی ٹی آئی کے قائدین نے گرفتاریاں دینے کا آغاز کردیا ہے۔

 عمران خان کی ہدایت پر لاہور سے جیل بھرو تحریک آج سے شروع ہوگئی ہے تاہم زمان پارک میں کارکنان کی آمد کا سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ خاتون کارکن 38 روز کے بچے کو جیل لے جانے کے لیے زمان پارک کے باہر موجود تھیں۔

مال روڈ پر دوپہر 2 بجے سیاسی دھمال شروع ہوگیا تھا۔ اس تحریک کے آغاز پر چیرنگ کراس لاہور میں پی ٹی آئی رہنما گرفتار یاں پیش کریں گے۔

پہلے مرحلے میں شاہ محمود، سابق گورنرعمر سرفراز چیمہ، سینیٹر ولید اقبال، سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر مراد راس سمیت پارٹی رہنما محمد خان مدنی، فواد رسول بھلر بھی 200 کارکنان سمیت گرفتاری دیں گے تاہم پی ٹی آئی کے سینکڑوں کارکن بھی اس موقع پر وہاں موجود ہوں گے۔

واضح رہے کہ‏ جیل بھرو تحریک میں مختلف شہروں میں مرحلہ وار گرفتاریاں دی جائیں گی، دائرہ پشاور، راولپنڈی اور ملتان سمیت دیگر شہروں تک پھیلایا جائے گا۔

گرفتاری دینے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے کارکنان کو پہنچنے کی ہدایت جاری ہے، زمان پارک میں پی ٹی آئی کارکنوں کا جوش جذبہ حدیں چھونے لگا۔ خواتین، بوڑھے اور بچوں نے بھی تیاری پکڑ لی۔

عمران خان کا پیغام

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے جیل بھرو تحریک سے متعلق پیغام جاری کیا گیا ہے۔

عمران خان نے اپنے جاری کردہ پیغام میں کہا کہ حقیقی آزادی کے لیے عوام ہماری جیل بھرو تحریک میں شامل ہوں، اس تحریک سے ایک آزاد اور خوشحال پاکستان بنے گا۔

یہ بھی پڑھیں: جیل بھرو تحریک، پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کا کارکنوں کے نام پیغام

چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ یہ اس وقت ہوگا جب ریاست آپ کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے گی، یہ آپ کو آزاد اور خوشحال پاکستان کی طرف لے کر جائے گی، جیل بھرو تحریک جہاد کا نام ہے۔

اس حوالے سے عمران خان نے اپنے ٹوئٹر پر کہا کہ آج ہم حقیقی آزادی کے لیے جیل بھرو تحریک، 2 اہم وجوہات کی بناء پر شروع کر رہے ہیں۔ ایک یہ ہمارے آئینی طور پر ضمانت یافتہ بنیادی حقوق پر حملے کے خلاف پرامن، غیر متشدد احتجاج ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بدمعاشیہ کی جانب سے لائے گئے معاشی بدحالی کے خلاف ہے جنہوں نے اربوں کی لوٹی ہوئی دولت کی منی لانڈرنگ کی اور عوام کو کچلتے ہوئے اپنے لیے این آر او حاصل کیے، خاص طور پر غریب اور متوسط ​​طبقے کو مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے بوجھ تلے دبایا۔

جیل بھرو تحریک کا شیڈول

 پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے جیل بھرو تحریک کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے۔

شیڈول کے مطابق 22 فروری سے یکم مارچ تک روزانہ 200 کارکنان رضاکارانہ طور پر گرفتاریاں دیں گے۔ کارکنوں کے ہمراہ سابق اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کا چھ رکنی گروپ بھی گرفتاری دے گا تاہم گرفتاریاں نہ ہونے کی صورت میں کارکنان اور اراکین اسمبلی مقررہ مقام پر دھرنا دیں گے۔

شیڈول میں بتایا گیا ہے کہ 22 فروری کو شاہراہِ قائد اعظم لاہور پر گرفتاریاں پیش کی جائیں گی، 23 فروری کو پشاور، 24 کو راولپنڈی، 25 فروری کو ملتان اور 26 فروری کو گوجرانولہ کے کارکنان گرفتاری دیں گے۔

اس کے علاوہ27 فروری کو سرگودھا، 28 فروری کو ساہیوال اور یکم مارچ کو فیصل آباد میں کارکنان رضاکارانہ گرفتاریاں دیں گے۔

شیڈول کے مطابق 22 فروری کو لاہور میں دی جانے والی رضا کارانہ گرفتاری کے لیے کارکنان کی فہرست تیار کرلی گئی۔

لاہور میں سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ اراکین اسمبلی کے گروپ کے ہمراہ گرفتاری پیش کریں گے تاہم لاہور سے تعلق رکھنے والے سابق اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے ناموں پر مشاورت جاری ہے۔

رضاکارانہ گرفتاری پیش کرنے والے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے ناموں کی حتمی منظوری عمران خان دیں گے۔

متعلقہ خبریں