سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بارکھان واقعہ کیخلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک پیغام میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے بارکھان واقعے کو جنگل کے قانون سے مخاطب کیا ہے۔
Strongly condemn illegal incarceration, physical abuse & killing of a poor Baloch woman & her children in Khetran, Balochistan in private jail of Sardar Abdul Rehman Khetran, a prov minister. Immediate action must be taken against this law of the jungle.
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) February 22, 2023
انہوں نے کہا ہے کہ صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کی نجی جیل میں بلوچستان کے کھیتران میں ایک غریب بلوچ خاتون اور اس کے بچوں کو غیر قانونی قید، جسمانی زیادتی اور قتل کی شدید مذمت کرتا ہوں ۔
یہ بھی پڑھیں؛ بارکھان میں 3 افراد کے قتل کا معاملہ؛ حکومت نے جے آئی ٹی تشکیل دیدی
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جنگل کے اس قانون کے خلاف فوری کارروائی ہونی چاہیے۔
خیال رہے کہ بلوچستان کے ضلع بارکھان میں کنوئیں سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں ملیں جن کی شناخت خان محمد مری نامی شخص کی اہلیہ اور دو بیٹوں کی حیثیت سے ہوگئی۔ تینوں کو فائرنگ سے قتل کرکے لاشیں کنویں میں پھینکی گئیں۔۔ خاتون کے چہرے پر تیزاب ڈال کر مسخ بھی کیا گیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں بیٹوں کی رہائی کے لیے دہائی دینے والی ماں گراناز نے قرآن ہاتھ میں لے کر صوبائی وزیر عبدالرحمان کھیتران پر دوبیٹوں کونجی جیل میں قید کرنے کا الزام عائد کیا تھا تاہم صوبائی وزیر کے ظلم کی دہائیاں دیتی گراناز کو انصاف تو نہ مل سکا مگر مغوی بیٹوں سمیت دردناک موت ضرور مل گئی۔
اس حوالے سے خان محمد مری کا کہنا ہے کہ لاشیں ان کی اہلیہ گراناز اور بیٹوں محمد نوازاورعبدالقادر کی ہیں جو 2019 سے سردار عبدالرحمان کھیتران کے نجی جیل میں قید تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے خاندان کے مزید 5 افراد اب بھی سردار عبدالرحمان کھیتران کے جیل میں قید ہیں، ظلم کے خلاف کوئٹہ میں مری قبیلے نے لاشیں سڑک پر رکھ کر دھرنا دے دیا۔



















