وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم پہلے خود قربانی دیں گے پھر کسی اور سے مانگیں گے ۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کیا اشرافیہ نے اپنا فرض اداکیا؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے اور آج قوم تنقیدی اور سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر، مشیر، سرکاری افسران سادگی کو اپنائیں کیونکہ پہلے خود قربانی دیں گے پھر کسی اور سے مانگیں گے، پہلے خود سےشروع کرنا ہوگا پھر اشرافیہ سے تقاضا کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کفایت شعاری کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔
یہ بھیپڑھیں: انسانیت کی بھلائی سے بڑا کوئی کام نہیں، وزیراعظم شہباز شریف
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ماضی سے سیکھ کر آگے بڑھنا ہے، ہمیں ملک و قوم کے لیے قربانی دینا ہوگی۔
وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ آئی ایم ایف سے معاملات جلد طے ہو جائیں گے اور پروگرام بھی جلد مل جائے گا۔
خیال رہے کہ کابینہ اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ ارکان نے سرکاری کفایت شعاری مہم میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت تمام وفاقی وزراء الاؤنسز اور مراعات رضاکارانہ طور پر چھوڑیں گے ۔
اسکے علاوہ کابینہ ارکان کی بزنس کلاس میں سفری سہولت بھی ختم کی جارہی ہے جبکہ اعلیٰ سرکاری حکام بھی بزنس کلاس سے مستفید نہیں ہو سکیں گے اور سرکاری افسران اور وزراء فائیو سٹار ہوٹل میں قیام نہیں کریں گے۔
سرکاری سطح پر تقریبات میں ون ڈش رکھی جائے گی اور وفاقی وزرا یوٹیلیٹی بلز اپنی جیب سے ادا کریں گے۔



















