وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا ہے کہ اربن ڈویلپمنٹ اورکلائمیٹ ریزیلیئنس منصوبوں میں پسماندہ اور دور دراز علاقوں کو ترجیح دی جائے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کے زیر صدارت ہونے والے گلگت بلتستان ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں سولر پاور پروجیکٹ، سکردو سیوریج سسٹم اور کلائمیٹ ریزیلیئنس کے 16ارب95 کروڑ 61 لاکھ کے منصوبوں کو وزیر اعلیٰ کے فورم سے منظور کیا گیا اور سی ڈی ڈبلیو پی سے حتمی منظوری کیلئے سفارش کی گئی۔
اجلاس میں محکمہ برقیات کا تین میگاواٹ سولر پاور پروجیکٹ دیامر لاگت 60 کروڑ 86 لاکھ 71ہزار کا منصوبہ، سکردو سیوریج سسٹم لاگت 5 ارب 50 کروڑ کا منصوبہ اور دیہی ترقی اور کلائمیٹ ریزیلیئنس لاگت 10 ارب 84 کروڑ 80 لاکھ کا منصوبہ وزیر اعلیٰ کے فورم سے منظور کیا گیا جس کو سی ڈی ڈبلیو پی اور ایکنک سے حتمی منظوری کی سفارش کی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا کہ متبادل توانائی کے منصوبوں اور سسٹم اپ گریڈیشن،بجلی کے ضیاع کے روک تھام کیلئے اے بی سی کیبل اور سمارٹ میٹرز کی تنصیب کی مستند فرم سے فزیبلٹی کرائی گئی ہے جس کی وجہ سے مستقبل میں بجلی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
خالد خورشید نے صوبائی سیکریٹری برقیات کو ہدایت کی ہے کہ سسٹم اپ گریڈیشن، سمارٹ میٹرز اور اے بی سی کیبل کی تنصیب کے منصوبوں کا فنانشل ماڈل جلد تیار کریں تاکہ ان منصوبوں میں فنانسنگ کیلئے مختلف پہلوؤں پر غور کیا جاسکے جبکہ اربن ڈویلپمنٹ اورکلائمیٹ ریزیلیئنس منصوبوں میں پسماندہ اور دور دراز علاقوں کو ترجیح دی جائے۔
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے اس موقع پر محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور محکمہ تعمیرات کو ہدایت کی کہ آئندہ پی ایس ڈی پی منصوبوں کیلئے پاک پی ڈبلیو ڈی شیڈول 2022کے متعین کردہ ریٹس کے مطابق پی سی ون تیار کئے جائیں تاکہ منصوبوں کے معیار کو یقینی بنایا جاسکے۔



















