Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

قومی اسمبلی، انٹر بورڈ کوآرڈینیٹر پنشن کمیشن بل منظور

قومی اسمبلی نے انٹر بورڈ کوآرڈینیٹر پنشن کمیشن بل 2023 منظور کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکرزاہد اکرم درانی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین کی جانب سے انٹر بورڈ کوآرڈینیٹر پنشن کمیشن بل پیش کیا گیا۔

انٹر بورڈز کوآرڈینیٹر ینشن کمیشن بل 2023 ایوان سے منظور کیا گیا، اس کے علاوہ  قومی اسمبلی میں زکوٰۃ و عشر ترمیمی بل 2023، گیس چوری کی روک تھام اور بازیابی کا ترمیمی بل 2023 بھی پیش کیا گیا۔

جے یو آئی ف کا وزارت داخلہ سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس

دوسری جانب قومی اسمبلی میں جے یو آئی ف کی رکن اسمبلی عالیہ کامران نے وزارت داخلہ سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس لیا۔

اس حوالے سے وزیر مملکت قانون شہادت اعوان نے کہا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ اس پر ڈپٹی اسپیکر زاہد اکرم درانی نے ہدایت دی کہ وزارت داخلہ کی جانب سے رسپانس نہ آنے کی انکوائری کروائی جائے۔

ڈپٹی اسپیکر زاہد اکرم درانی کی جانب توجہ دلاؤ نوٹس پیر تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔

خواجہ آصف کا اظہار خیال 

علاوہ ازیں وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ضمانتیں منسوخ ہوئیں چھ ماہ سے تین سال تک جیلیں کاٹیں، ہم باہر نکلے ہمارے لئے تو باہر تانگہ کھڑا نہیں ہوا، اشرافیہ کیلئے یہاں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، ہماری بطور ایم این اے ایک لاکھ اڑسٹھ ہزار روپے ہے، ہم کوئی اربوں کروڑوں روپے نہیں لیتے ہمارے ساتھ زیادتی کیوں؟

انہوں نے کہا کہ یہاں اشرافیہ کیلئے سڑکیں بند کرفیو لگ جاتے ہیں، ہمارے دامن پر جو داغ لگے ہیں وہ ہمارے ووٹر بھی جانتے ہیں، تاریخ میں ہمارے سیاستدان ایسے ملیں گے جنہوں نے تاریخ میں اپنا نام لکھوایا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ چودہری پرویز الہٰی نے مجھے بتایا کہ ایک شادی میں بیوروکریٹ نے 72 کروڑ کی سلامیاں اکٹھی کیں، اسی ںیورو کریٹ کے ہاں گزشتہ شادی میں ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد سلامیاں اکھٹیاں کی گئیں، کسی نے پوچھا آج تک اس بیوروکریٹ سے ہمیں تو اٹھا لیا جاتا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ایک شخص نے پورے ملک میں عدم استحکام پیدا کیا ہے، یہ شخص جن ہاتھوں سے کھاتا رہا انہی کو کاٹ رہا ہے،  پہلے امریکہ پر حکومت نکالنے کا الزام پھر اس سے پیچھے ہٹ گیا، اب جنرل باجوہ اور نواز شریف پر الزام لگا رہا ہے، چھ ماہ میں تو چھتوں سے لینٹر کھل جاتا ہے اس شخص کی ٹانگ کا لینٹر نہیں کھل رہا۔

اس موقع پر زاہد اکرم درانی نے کہا کہ خواجہ محمد آصف نے اراکین کی تنخواہوں کا ایوان میں بتایا، اراکین کی تنخواہ ایک لاکھ اڑسٹھ ہزار روپے ہے، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہ بھی ایک الکھ اڑسٹھ ہزار روپے ہی ہے۔

بعدازاں انٹر بورڈ کوآرڈینیٹر پنشن  کمیشن بل منظور کیے جانے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام 5 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

متعلقہ خبریں