سابق وزیراعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر گرفتاری کا خدشہ ہے۔
اسلام آباد کی ضلع کچہری سے عمران خان کی درخواست ضمانت واپس لینے کے بعد عمران خان کی گرفتاری کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان نے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت میں الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج پر ہونے والے مقدمے میں دائر درخواست ضمانت واپس لے لی ہے۔
پولیس عمران خان کو کسی وقت بھی گرفتار کر سکتی ہے
ایف ایٹ کچہری سے پولیس کی نفری کو اسلام آباد ہائیکورٹ منتقل کرنے کے احکامات جاری
براہ راست دیکھیں: https://t.co/H5UZzCDu0z#BOLNews #ImranKhan pic.twitter.com/lRZV3QxugG— BOL Network (@BOLNETWORK) February 28, 2023
درخواست ضمانت واپس لئے جانے کے بعد اسلام آباد پولیس کی اعلیٰ سطح پر مشاورت ہوئی ہے جس میں ممکنہ عمران خان کی گرفتاری پر غور کیا جارہا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق پولیس مشاورت میں اپنی تیاری پر غور کیا گیا ہے کہ اگر وزارت داخلہ عمران خان کی گرفتاری کا حکم دے دیتی ہے تو پھر پولیس کس حد تک تیار ہے۔
پولیس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس عمران خان کو کسی وقت بھی گرفتار کر سکتی ہے کیونکہ درخواست واپس لینے کے بعد وفاقی پولیس قانونی طور عمران خان کو گرفتار کر سکتی ہے، اس حوالے سے وفاقی پولیس کے حکام کی عمران خان کی گرفتاری کے حوالے سے مشاورت جاری تاحال جاری ہے۔
پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اگر وزارت داخلہ نے حکم دیا تو عمران خان کو گرفتار کرسکتے ہیں۔



















