امریکی مشن کے نائب سربراہ اینڈریو شوفر نے وفد کے ہمراہ سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا اور وہاں امدادی سرگرمیوں اور صحت کی خدمات کا جائزہ لیا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان میں امریکی مشن کے نائب سربراہ اینڈریو شوفر کی سربراہی میں امریکی وفد نے 27 فروری کو صوبہ سندھ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے امریکی حکومت کی مالی معاونت سے جاری پروگرامز کا جائزہ لیا۔

ان پروگرامز کے تحت 2022 میں سیلابی تباہ کاریوں کے نتیجے میں صحت، تحفظ اور غذائی قلت سمیت دیگر چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

امریکی حکومت کی جانب سے پاکستان کو 20 کروڑ ڈالرز کی مالی معاونت فراہم کی جاچکی ہے، جس کا مقصد پاکستان میں سیلاب متاثرین کی بحالی و امداد، سیلابی تباہی سے نمٹنے کی استعداد میں اضافہ اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

امریکی حکومت نے پاکستان میں سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے سیلاب متاثرین کی بحالی میں بھرپور تعاون کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

اینڈریو شوفرنے امریکی حکام کے ہمراہ میرپور خاص میں قائم دیہی صحت مرکز کا دورہ کیا جہاں اقوام متحدہ کا فنڈ برائے اطفال ’یونیسیف‘ صحت اور غذائی خدمات فراہم کرنے میں پیش پیش ہے۔

ان خدمات کے لیے یونیسیف کو امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی ’یو ایس ایڈ‘ کے ذریعے امریکی حکومت کی فنڈنگ حاصل ہے۔

اینڈریو شوفر نے یونیسیف کے نمائندگان سے ملاقات میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں غذائی قلت سمیت دیگر مسائل پر گفتگو کی جبکہ پاکستان میں صحت کے نظام پر سیلابی تباہی کے گہرے اثرات کو سمجھنے کے لیے مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیا ل ہوا۔

انہوں نے سیلاب متاثرین کو فراہم کردہ بنیادی صحت کی خدمات، بشمول امریکی حکومت کی مالی معاونت سے غذائی اشیاء کی تقسیم کا بھی جائزہ لیا۔

بعد ازاں امریکی مشن کے نائب سربراہ اینڈریو شوفر نے گاؤں جیئو کلوئی کا دورہ کیا جہاں یونیسیف کی جانب سے امریکہ کی مالی معاونت سے موبائل کلینک کے ذریعے صحت وغذا ئی خدمات فراہم کی جارہی ہیں۔

یونیسیف سیلاب سے متاثرہ آبادیوں کی بحالی و امداد کی خدمات میں مصروف عمل ہے جبکہ صنفی بنیاد پر تشدد کی روک تھام اور بچوں کے تحفظ سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے یونیسیف کا کلیدی کردار جاری ہے۔



















