ایم کیو ایم کے وفد کی جانب سے پیپلز پارٹی کے رویئے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے وفد کی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی جس دوران ملک کی معاشی صورتحال اور تیزی سے بڑھتی مہنگائی پر گفتگو کی گئی۔
ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے وفاقی حکومت سے ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے پر شکوہ اور مطالبات سے متعلق پیپلز پارٹی کے رویئے کے حوالے تحفظات کا اظہار کیا۔
اس کے علاوہ سندھ میں حلقہ بندیوں کی درستگی کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت پر بات چیت بھی کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم کا حکومت نہیں کابینہ چھوڑنے کا فیصلہ
خیال رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے وفد میں وفد میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، مصطفی کمال، روف صدیقی سمیت فوزیہ حمید، صادق افتخار بھی شامل رہے۔
ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے تعلقات کا نیا موڑ
معاہدے میں تاخیر اور مطالبات تسلیم نہ کرنے پر ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے ذرائع نے بتایا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان نے اضافی یوسیز کے نوٹیفیکیشن جاری نہ ہونے پر لائحہ عمل طے کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ چند انتظامی عہدے ایم کیو ایم کے مطالبات کا نعم البدل نہیں ہوسکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کی جانب سے مطالبات کی منظوری کے لیئے عہدوں کو چھوڑنے پر غور کیا جارہا ہے تاہم 12 مارچ کے جلسہ میں فیصلہ کے حوالے سے اعلان کیا جائے گا ۔



















