اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو لاہور سے گرفتاری کے بعد راہداری ریمانڈ پر اسلام آباد منتقل کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد پولیس کا عمران خان کی گرفتاری سے متعلق مشاورتی اجلاس ہوا جس میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد کی صورتحال پر جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں پولیس نے کہا کہ عمران خان کو کچہری پیش کیے جانے کے حوالے سے بھی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ آئی جی اسلام آباد نے ایس ایس پی آپریشن کو کچہری کی سیکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی ممکنہ گرفتاری، پی ٹی آئی کا ملک گیر احتجاج کا اعلان
آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ کچہری میں عمران خان کی پیشی کے وقت تمام سیف سٹی کیمرے ٹھیک ہونے چاہیے۔
پولیس نے بتایا کہ عمران خان کو لاہور سے گرفتاری کے بعد راہداری ریمانڈ پر اسلام آباد منتقل کیا جائے گا، اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر پولیس کو الرٹ رہنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
اسلام آباد پولیس نے مزید کہا کہ پنجاب پولیس موٹروے سے منتقلی کے دوران بھی سیکیورٹی فراہم کرے گی۔
آئی جی اسلام آباد کا آئی جی پنجاب سے ٹیلی فونک رابطہ
دوسری جانب آئی جی اسلام آباد نے آئی جی پنجاب سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور عمران خان کی ممکنہ گرفتاری کے لیے مشاورت کی۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ آئی جی پنجاب نے عمران خان کی ممکنہ گرفتاری کے حوالے سے ہر طرح کی یقین دہانی کروائی۔
ذرائع نے مزید کہا کہ پنجاب پولیس اسلام باد پولیس کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ عمران خان کی ممکنہ گرفتاری کے دوران مزاحمت کرنے یا قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف مقدمات درج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی ممکنہ گرفتاری، اسلام آباد پولیس لاہور پہنچ گئی
واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کو گرفتار کرنے لاہور پہنچ گئی۔
ٹیم ایس پی سٹی اسلام آباد حسین طاہر کی سربراہی میں سابق وزیراعظم عمران خان کو گرفتار کرنے لاہور پہنچی ہے۔
زمان پارک پہنچنے والی پولیس ٹیم کے اہلکار نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے، عمران خان کو بتانے آئے ہیں کہ عدالت میں پیش ہوجائیں، اگر عمران خان عدالت حاضر نہیں ہوں گے تو اگلہ مرحلہ گرفتاری ہوگا۔
پولیس اہلکار نے مزید کہا کہ ہم گرفتاری کے لیے نہیں صرف نوٹس دینے آئے ہیں، پی ٹی آئی قیادت سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، عدالتی حکم پر عملدرآمد کرانے آئے ہیں۔



















