Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

2023 ایم کیو ایم کی کامیابیوں کا سال ہے، فاروق ستار

 ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ2023 ایم کیو ایم کی کامیابیوں اور مستحکم ہونے کا سال ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارا چوتھا جنرل ورکرز اجلاس ہے، 2023 میں تواتر کے ساتھ اس طرح کے اجلاس کی انعقاد کی بنیاد پر سے شروع کیا گیا سفر پر دعویٰ کرتا ہوں کہ یہ سال ایم کیو ایم پاکستان کا سال ہوگا۔

 انہوں نے کہا کہ یہ ایم کیو ایم کی نشاط ثانیہ کا سال ہے، یہ ایم کیو ایم کی کامیابیوں اور مستحکم ہونے کا سال ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سال کے شروع ہوتے ہی آپ کو بریکنگ نیوز ملنے کا سلسلہ شروع ہوا، یہ ہم سب نے مل کر متحد منظم اور مستحکم ایم کیو ایم 11 جنوری کو دوبارہ متحرک کی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک جماعت نہیں ایک فین کلب ہے، تحریک انصاف میں کارکنان نہیں نہ ہی کارکن سازی ہے، یہ جو کچھ ہو رہا ہے ایرانی سرکس لگ رہا ہے۔

فاروق ستار نے کہا کہ چار پولیس والے جائیں اور خالی ہاتھ واپس آجائیں، عدلیہ کی عملداری کا مذاق بن رہا ہے جبکہ ہمارے وقت میں ٹھاکر سمیت پوری پلٹن گرفتاری کو کھڑی ہوتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ایسٹ کی جانب سے مردم شماری میں خلل ڈالا جارہا ہے، ڈسٹرکٹ ایسٹ میں پیپلز پارٹی کے شمار کنندگان اپنی مرضی چلاتے ہوئے ہماری آبادی کو لاپتہ کر رہے ہیں جبکہ ایم کیو ایم کے مطالبے پر پہلی بار وقت سے قبل مردم شماری ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں؛ ہمیں فیلڈ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیئے، فاروق ستار

ان کا کہنا تھا کہ یہ 4 جنرل ورکرز اجلاس چھوٹے ٹریلرز تھے، اب ایم کیو ایم کا جلسہ تاریخی جلسہ ہوگا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب انتخابات کی بساط بچھے گی تو بریکنگ نیوز پر بریکنگ نیوز ملے گی۔

فاروق ستار نے کہا کہ اگر ڈالر کی بے لگام پرواز کو روکنا ہے تو ایم کیو ایم کو لے کر آنا ہوگا، ایم کیو ایم ہی امید کی کرن ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی چلتا ہے تو پاکستان چلتا اور پلتا ہے جبکہ تیل اور ڈالر کی قیمتوں اور قدر کو کم کرنا بھیک صرف کراچی کے مرہون منت ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں؛ اگر کراچی کو اپنا حق لینا ہے تو مردم شماری میں خود کو گنوانا ہے، فاروق ستار

فاروق ستار نے مزید کہا کہ اس ملک کو سیاسی اور معاشی بحران سے نکالنے کے لئے ایک مکالمہ کی ضرورت ہے اور میں ساری سیاسی جماعتوں سے کہتا ہوں کہ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں۔

متعلقہ خبریں