لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب میں انتخابات کیلئے جوڈیشل افسران کی فراہمی سے دوبارہ انکار کردیا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے پنجاب میں الیکشن کیلئے جوڈیشل افسران کی فراہمی سے دوبارہ انکار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو اس فیصلے سے آگاہ کردیا۔
رجسٹرارلاہورہائی کورٹ نے کہا کہ ماتحت عدلیہ میں ہزاروں کیسز زیر التواء ہیں، جوڈیشل افسران کی فراہمی سے زیر التواء کیسز میں مزید اضافہ ہوگا۔
ذرائع نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کیلئے آر اوز بیوروکریسی سے لینے کا فیصلہ کیا ہے، آر اوز ڈی آر اوز کی تعیناتیوں پر مشاورت کی وجہ سے شیڈول کے اجراء میں تاخیر ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کل شیڈول کے ساتھ آراوز،ڈی آر اوز کی تقرری کرے گا۔ قانون کے مطابق عدلیہ سے انکار کے بعد آر اوز بیوروکریسی سے لئے جائیں گے۔
واضح رہے کہ 8 فروری کو بھی لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے سیکریٹری الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر جوڈیشل افسران کی بطور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسران تعیناتی سے معذرت کی تھی۔
بعدازاں 2 مارچ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب میں انتخابات کے لئے ریٹرننگ افسران عدلیہ سے لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ جس پر جسٹرار لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب میں انتخابات کے لئے جوڈیشل افسران فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کردی تھی۔
ذرائع الیکشن کمیشن نے بتایا تھا کہ انتخابات کیلئے ریٹرننگ اور اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر ماتحت عدلیہ سے ہوں گے۔ انتخابات کیلئے ریٹرننگ آفیسر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں؛ الیکشن کمیشن کا انتخابات کیلئے وفاقی حکومت کو خط لکھنے کا فیصلہ
الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا تھا کہ ریٹرننگ افسران، اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کیلئے ججز کی فہرست تیاری 3 مارچ سے شروع ہوگی، پنجاب کی 297 جنرل نشستوں پر الیکشن کرائے جائیں گے اور پنجاب بھر میں 150 سے زائد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع الیکشن کمیشن نے مزید بتایا تھا کہ پنجاب میں انتخابات کیلئے 300 سے زائد سول ججز اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران ہوں گے اور ضلعی اداروں کے سربراہان ریٹرننگ افسران کی معاونت کریں گے۔



















