ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے خاتون جج کو دھمکی کے کیس سے متعلق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے خاتون جج کو دھمکی دینے کے کیس کی سماعت ہوئی۔
دوران سماعت عمران خان کی جانب سے وکیل نعیم حیدر پنجوتھا عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور عمران خان کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کردی۔
عدالت میں عمران خان کے وکیل نے اپنے موقف میں کہا کہ ایسا نہیں کہ عمران خان عدالت پیش نہیں ہونا چاپتے، ہر عدالت میں پیش ہوئے، مختلف عدالتوں میں عمران خان کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضر ہونے کی درخواستیں دیں۔
نعیم حیدر پنجوتھا نے کہا کہ موجودہ حکومت عمران خان کو قتل کرنا چاہتی ہے، دفعہ 144 لاہور میں نافذ ہے، عمران خان کی عدالت پیشی پر نہیں، عمران خان کی جان کو خطری ہے۔
وکیل عمران خان نے موقف اختیار کیا کہ عمران خان کو سیکیورٹی کے تھریٹ ہیں اور لاہور میں کل دفعہ 144 نافذ کی گئی، حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان معاہدہ ہوا جس کو عمران خان نے لیڈ کرنا تھا۔
نعیم پنجوتھہ نے استثنیٰ کی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پرامن ریلی پر پنجاب حکومت کی جانب سے شیلنگ اور ربڑ کی گولیاں برسائی گئیں۔ عمران خان کی جہاں رہائش تھی اس پر نقل حرکت کرنا مشکل ہے۔
وکیل عمران خان نے مزید کہا کہ کل بھی ریلی میں ایک ورکر جاں بحق ہو گیا ہے، اس سے قبل بھی وزیر آباد میں بھی عمران خان پر حملہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: خاتون جج دھمکی کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی مستقل ضمانت منظور
اس موقع پر سرکاری وکیل نے کہا کہ دفعہ 144 لاہور میں نافذ ہے، عمران خان کی عدالت پیشی پر نہیں۔
عدالت کی جانب سے پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی کے آنے تک سماعت میں 11 بجے تک وقفہ کر دیا گیا۔
وقفے کے بعد عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی آج کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی اور کیس کی مزید سماعت 13 مارچ تک ملتوی کردی۔



















