وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا ہے جس میں حج پالیسی 2023 اور قومی کلین ایئر پالیسی کی منظوری دے دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزارت موسمیاتی تبدیلی کی تجویز کردہ نیشنل کلین ایئر پالیسی کی منظوری دے دی گئی اور کابینہ کو بتایا گیا کہ پاکستان میں گذشتہ برسوں میں فضائی آلودگی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، ایئر کوالٹی انڈیکس رپورٹ 2022-23 کے مطابق کراچی اور لاہور پاکستان میں ہوا میں موجود آلودگی کے اعتبار سے سب سے زیادہ متاثر شہر ہیں جبکہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فضائی آلودگی کی وجہ سے انسانی عمر کی اوسط حد میں 2.7 سال کی کمی واقع ہوئی۔
وزارت موسمیاتی تبدیلی نے شہریوں کی صحت کی حفاظت، سالانہ اموات میں کمی، زراعت اور شہری اور دیہی علاقوں میں ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کے حوالے سے ایک جامع پالیسی مرتب کی ہے اور پالیسی میں تجویز کیا گیا ہے کہ ایندھن کے معیار کو یورو 5 سے یورو 6، صنعتوں کے اخراج کے لیے کڑے قوانین، زراعت میں جدّت اور فصلوں کے فضلے کے جلانے کا موثر تدارک، کوڑا کرکٹ کو تلف کرنے کے عالمی سطح پر رائج طریقہ کار اور کھانے پکانے میں کم گیسوں کے اخراج والے طریقہ کار کی پذیرائی کی جائے گی۔
پالیسی کے اطلاق سے آئندہ دس سالوں میں زہریلی گیسوں کے اخراج میں اوسطاً 40 فیصد کمی آئے گی۔ پالیسی کے موثر اور یقینی اطلاق کے لیے نیشنل ایکشن کمیٹی اور ایک ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
وفاقی کابینہ نے وزارتِ قانون و انصاف کی سفارش پر قومی احتساب ترمیمی آرڈینیس 2023 کی منظوری دے دی اور کابینہ کو بتایا گیا کہ حالیہ ترامیم سے کچھ قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوگئیں تھیں، بہت سے ایسے کیسز جو نیب آرڈیننس کے دائرہ کار میں نہیں آتے تھے ان کی دوسری عدالتوں، ٹریبیونلز اور فورمز پر منتقلی میں دشواریوں کا سامنا تھا، ترامیم کے بعد احتساب عدالتوں سے ان کیسز کی منتقلی کیلئے قانونی جواز حاصل ہو جائے گا اور ان ترامیم سے یہ تاثر بھی زائل ہوگا کہ ایسے کیسز جوکہ نیب آرڈیننس کے دائرہ کار میں نہیں آتے، وہ ڈی کریمینلائز ہو جاتے ہیں۔
وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2023 کی باضابطہ منظوری دے دی، وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی پاکستانی حاجیوں کے سفر اور حج کے دوران ہر ممکن سہولتیں فراہم کرنے کے لئے اعلیٰ حکام سعودی عرب حکام کے تعاون سے موثر اور جامع حکمت عملی جلد از جلد مکمل کریں۔
وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی اور کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے فیصلوں کی بھی توثیق کر دی۔



















