وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ سال 2018 میں تبدیلی نہیں آتی تو آج ہم بہت آگے ہوتے کیونکہ پالیسیوں کو جاری رکھنے کے لئے کم از کم 10 سال کا تسلسل چاہیے ہوتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں کامیابی ان لوگوں کے پاس ہے جن کے تعلیمی ادارے ترقی یافتہ ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں جدت آ گئی ہے اور گزشتہ کچھ صدیوں میں گھوڑے کو پہئے سے تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ عربوں ڈالرز کی کمپنیاں ختم ہو گئی صرف اس لئے کہ وہ جدت کے ساتھ نہیں چلے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2013 میں ہم نے کہا کہ پاکستان کو دنیا کی 20 بہترین ممالک میں شامل کریں گے تو لوگ ہنستے تھے اور کراچی تب دہشت گردی کا گڑھ تھا جبکہ 2017 میں دنیا کا نمایا کنسلٹنگ کا ادارہ ہے اس نے کہا تھا کہ اگر پاکستان اسی رفتار سے چلتا رہا تو 2025 تک دنیا کے 20 بہترین ممالک میں شامل ہو جائے گا ۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلے گی، احسن اقبال
احسن اقبال نے بتایا کہ ہماری اس ترقی میں سب سے قریبی اور اہم کردار ہمارے دوست ملک چائنہ نے ادا کیا جبکہ دوسرے ملکوں کے سفیر اور لوگ پوچھتے تھے کہ ہمارے ملک کہ کمپنیاں سی پیک میں کیسے شریک ہو سکتی ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے تمام شعبوں میں بہت عمدہ کام کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور 20 سے 40 عرب ڈالر کی انویسٹمنٹ چائنہ سے پاکستان میں کروانی تھی۔ تاہم اگر 2018 میں ملک میں تبدیلی نا آتی تو آج ہم بہت اگے ہوتے ۔
انہوں نے بتایا کہ ہمارے ملک نے دو اہم ترقی کے مواقع گوا دیئے کیونکہ دنیا میں جس ملک میں ترقی کی ہے اس کو اپنی پالیسیوں کو 10 سال کا وقت ملا ہے اور پالیسیوں کو جاری رکھنے کے لئے کم از کم 10 سال کا تسلسل چاہیے ہوتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی پوروڈکٹیوٹی کے اوپر فوکس نہیں کیا جس کی وجہ سے گندم، کپاس، گنا اور باقی تمام زراعت کے حصوں میں ہم سرے فہرست ہیں لیکن پروڈکشن کے معاملے میں ہم سب سے پیچھے ہیں ۔
انہوں نے مزید کہا کہہم نے پی ایچ ڈی کے سکالرز کے لئے پروگرام شروع کیا تاکہ ہم اس شعبے میں جدت لا سکیں اور ابھی بھی چائنہ کے ساتھ اشتراک کر کے ہم اس شعبے کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہیں ۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ 2047 تک ہم پاکستان کو دنیا کے 10 بہترین ممالک میں لا کر کھڑا کر دیں۔



















