ایف آئی اے کی جانب سے بول ٹی وی کے بیوروچیف صدیق جان کو طلب کرنے کے معاملے پر صدیق جان نے ایف آئی اے نوٹس کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں صدیق جان کی درخواست کی سماعت کل ہوگی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں صدیق جان کی درخواست رجسٹرار آفس کو موصول ہوئی جس میں صدیق جان نے ایف آئی اے نوٹس کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔
صدیق جان نے درخواست میں موقف اخییار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے ایف آئی اے کی طرف سے پہلے کوئی نوٹس نہیں دیا گیا، میں ایف آئی اے کے الزامات کا جواب دینے اور تحقیقات کے لئے تیار ہوں، مجھ پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں عدالت میں سامنا کروں گا۔
ایف آئی اے کا بول کے اسلام آباد بیوروچیف صدیق جان کو نوٹس
بول نیوز کے خلاف ایک اور حکومتی ہتھکنڈہ استعمال کیا گیا ، ایف آئی اے سائبر کرائم نے بول کے اسلام آباد بیورو چیف صدیق جان کو نوٹس دے دیا ہے۔
ایف آئی اے سائبر کرائم نے بول بیورو چیف اسلام آباد صدیق جان کو نوٹس جاری کردیا۔۔ نوٹس کے مطابق صدیق جان نے سوشل میڈیا پر عوام کو اکسانے کی کوشش کی ہے۔۔ صدیق جان نے کہا کہ ایف آئی اے نے مجھے نوٹس بھیجا ہے، میں عدالت سے رجوع کررہا ہوں۔۔ #BOLNews #BreakingNews @SdqJaan pic.twitter.com/fPBB7yrm2S
— BOL Network (@BOLNETWORK) March 15, 2023
ایف آئی اے کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ صدیق جان نےسوشل میڈیاپرعوام کواکسانےکی کوشش کی، صدیق جان نے جرم کیلئےعوام کے جذبات کو اکسایا۔
بول کے اسلام آباد بیورو چیف صدیق جان کا کہنا ہے کہ ایف آئی اےنےمجھےنوٹس بھیجا ہے، نوٹس بھیجنے والے دوست کے مطابق مجھے آج ہی گرفتار کیا جاسکتا ہے، میں عدالت سے رجوع کررہا ہوں۔



















