چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ ایک چھوٹے سے طبقے کو مسلط کرنے کیلئے یہ ہتھکنڈے اپنائے جارہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے برسلز میں تحریک انصاف کے کارکنان کے احتجاج کیلئے وڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ 11 ماہ قبل ہماری حکومت ہٹائی گئی، اسکے بعد سے مسلسل انسانی حقوق پامال کئے جارہے ہیں، میری زندگی میں اسکی کوئی مثال نہیں جبکہ یہ ایک ایسا مارشل لا ہے جسکے سامنے سابق جنرل مشرف کا مارشل لا لبرل تھا۔
انہوں نے کہا کہ شہباز گل اور سینیٹر اعظم سواتی سمیت سیاسی کارکنان پر کسٹوڈیل ٹارچر کیا گیا، سوشل میڈیا کے لوگوں پر تشدد کیا گیا، میرے اوپر قاتلانہ حملہ ہوا اور تحقیقات کا رخ بھی موڑدیا گیا، ارشد شریف کو ملک سے باہر دھمکیاں دی گئیں اور پھر قتل کردیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے اوپر قتل، غداری اور توہین مذہب سمیت 96 کیسز بنا دیئے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں؛ لاہور: زمان پارک پر آپریشن، پولیس عمران خان کے گھر میں داخل
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امپورٹڈ حکومت چاہتی ہے کہ چوروں کے سیٹ اپ کے خلاف کوئی بات نہ کرے، بول نیوز کے سی ای او شعیب شیخ کو اٹھا لیا گیا، انہیں بند کیا گیا اور مجھے لگتا ہے کہ ان پر مبینہ تشدد کیا گیا، جو چینل ہم کو دکھاتا ہے اسے بند کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں؛ میرے گھر کے تقدس کو پامال کیا گیا ہے، عمران خان
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان نے جمہوریت کیلئے ایک لمبی لڑائی لڑی ہے، ایک چھوٹے سے طبقے کو مسلط کرنے کیلئے یہ ہتھکنڈے اپنائے جارہے ہیں، آپ ایسے ممالک میں بیٹھے ہیں جو جمہوریت کو سمجھتے ہیں، آپ آواز اٹھائیں، یہ جہاد ہے۔



















