لاہور: جوڈیشل مجسٹریٹ نے زمان پارک آپریشن کے دوران گرفتار 102 پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق ڈیوٹی جوڈیشل مجسٹریٹ غلام رسول نے پولیس کی درخواست پر سماعت کی۔
ڈیوٹی مجسٹریٹ غلام رسول نے ملزمان کو کل انسداد دہشت گردی گردی میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
پولیس پر تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کے الزام میں پی ٹی آئی کارکنان کو تین گاڑیوں میں سخت سیکیورٹی میں کینٹ کچہری پیش کیا گیا۔
پراسکیوٹر نے اپنے موقف میں کہا کہ زمان پارک پولیس آپریشن کے دوران پولیس پر تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کا الزام ہے، ملزموں نے پولیس پر پیٹرول بم پھینکے اور پولیس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔
زمان پارک پولیس حملہ، ایک اور مقدمہ درج
زمان پارک لاہور میں انسداد تجاوزات آپریشن کے معاملے پر پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے پولیس پر حملے کا ایک اور مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمہ دہشت گردی، اقدام قتل سمیت 13دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ پولیس ٹیم دہشت گردی عدالت سے جاری سرچ وارنٹ لے کر زمان پارک گئی، بات چیت شروع کرتے ہی 3 سو نامعلوم کارکنوں نے حملہ کر دیا، کارکنوں کو پیٹرول بم پھینکنے کی کوشش کے دوران قابو کیا۔
ایف آئی آر کے متن میں مزید بتایا گیا کہ تلاشی کے دوران زمان پارک سے رائفلیں بھی برآمد ہوئیں، کارکنوں نے سینئر قیادت کی ایماء پر پولیس پر حملہ کیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان توشہ خانہ کیس میں پیشی کے لیے زمان پارک لاہور سے اسلام آباد روانہ ہوئے جس کے بعد ان کے گھر پر سرچ آپریشن کیا گیا۔
لاہور پولیس کے ہمراہ موجود اینٹی انکروچمنٹ کی ٹیم نے کرین کے ذریعے عمران خان کےگھر کا دروازہ اور دیوار توڑی، رہائش گاہ کے باہر موجود مورچوں اور تجاوزات کو بھی ہٹادیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: زمان پارک میں آپریشن، پولیس عمران خان کے گھر میں داخل
اس کے علاوہ ہیوی مشینری سے زمان پارک کے باہر لگی تمام رکاوٹیں اور خیمے کو اکھاڑ دیا گیا۔
پولیس نے آپریشن کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 40 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔
عمران خان کے گھر کے اندر سے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی، پیٹرول بم اور پتھر بھی پھینکے گئے جس کے باعث پولیس کے تین سے زائد اہلکار پتھر لگنے سے زخمی ہوئے۔



















