ملک کے مختلف علاقوں میں لزلے کے شدید جھٹکوں کی پیش نظر آرمی چیف کی جانب سے امدادی سرگرمیوں کیلئے ہدایات جاری کردی گئں ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اسلام آباد، خیبر پختونخواہ، گلگت بلتستان بلوچستان اور پنجاب کے بیشتر علاقوں میں آنے والے شدید زلزلے کے بعد آرمی چیف، جنرل عاصم منیر کی ہدایات پر تمام متعلقہ یونٹس کو امدادی سرگرمیوں کیلئے تیار رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ زلزلے میں اب تک کسی بھاری نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم متفرق عمارات کی دیواروں میں دراڑوں کی اطلاع موصول ہوئی ہیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی ہدایات کے مطابق کسی بھی علاقے میں نقصان کی اطلاع پر سول انتظامیہ کی معاونت کو یقینی بنانا اور فوری ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا جانا شامل ہے تاکہ بروقت کاروائی کرکے قیمتی جانوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اس حوالے سے تمام متعلقہ آرمی اور ایف سی کی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں تیار ہیں جبکہ قدرتی آفات ہوں یا سیکیورٹی کے درپیش چیلنجز پاک فوج عوامی خدمت سے سرشار رہی ہے۔
خیال رہے کہ دارالحکومت اسلام آباد سمیت پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔
پشاور، لاہور، کوہاٹ، صوابی، بہاول پور، لودھراں، ڈی جی خان، میانوالی، خانیوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، پارا چنار اور کرک میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔
علاوہ ازیں اسکردو، چلاس، ایبٹ آباد، مانسہرہ، پتوکی، میانوالی، شاہ کوٹ، کمالیہ، بورے والا ، پھولنگر، قصور، شیخوپورہ خوشاب اور اوکاڑہ میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ خوفزدہ لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھرو ں سے باہر نکل آئے۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 6.8 سے لے کر 7.7 تھی جب کہ مرکز افغانستان سے 90 کلومیٹر دور ہندوکش پہاڑی سلسلہ تھا۔



















