وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے سیکیورٹی صورتحال پر شیڈول ملتوی کیا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے پنجاب میں ملتوی ہونے والے الیکشن کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کاکام صاف و شفاف انتخابات کرانا ہے جبکہ ملک بھر میں دہشتگردی کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ئین کے مطابق 90روزمیں انتخابات ایک ساتھ ہونا ضروری ہیں لیکن 2008 میں خیبرپختونخوا میں 5 ماہ سے زیادہ نگران سیٹ اپ برقرار رہا تھا ۔
یہ بھی پڑھیں: کوئی سیاسی گروہ حکومت کی رٹ کو چیلنج نہیں کرسکتا، اعظم نذیر تارڑ
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں بیک وقت انتخابات ہونےہوتے ہیں, 1947 سے آج تک تمام انتخابات ایک ساتھ ہوئے ہیں اور قومی و صوبائی اسمبلی الیکشن ایک ساتھ کرانے کی مثالیں موجودہیں تاہم الیکشن کمیشن نےآئین کےتحت بیک وقت انتخاب کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں سیکیورٹی چیلنجز اورشدید معاشی بحران ہے اور ان تمام تر صورتحال سے متعلق الیکشن کمیشن کو اداروں نے تمام تفصیلات سے آگاہ کیا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے کہا 2 بار الیکشن سے 100 ارب خرچ ہوگا جبکہ ملک میں معاشی مشکلات ہیں تاہم کفایت شعاری کی طرف جانا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ آرٹیکل 6 کا نعرہ لگانے سے پہلے اپنا دامن دیکھیں کہ قومی اسمبلی تحلیل کرا کر عمران خان نے آئین شکنی کی تھی جس کے بعد 2 صوبائی اسمبلیاں ایک شخص کی انا کی بھینٹ چڑھ گئیں جس پر فوری ردعمل دیا گیا، آئین شکنی کی گئی اور آئین توڑدیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ مردم شماری پرتمام جماعتوں کو تحفظات تھے جس کے بعد پی ٹی آئی نے ڈیجیٹل مردم شماری پر انتخابات کرانے پر دستخط کیے جس کے نتائج 6 ماہ بعد آجائیں گے اور کیا ممکن ہے 2 اسمبلی کے الیکشن پرانی، باقی کے نئی مردم شماری پر ہوں تو بہتر یہی ہے کہ انتخابات کو حصوں میں کرانے کے بجائے ایک ساتھ کرائے جائیں۔



















