کوئٹہ کی مقامی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے بھانجے اور فوکل پرسن حسان نیازی کو ایک روزہ راہدرای ریمانڈ پر پنجاب پولیس کے حوالے کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی رہنما اور چیئرمین عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کو کوئٹہ کے جوڈیشل مجسٹریٹ 7 کلیم اللہ موسیٰ زئی کے روبرو پیش کیا گیا۔
کوئٹہ: حسان نیازی ایک روزہ راہداری ریمانڈ پر لاہور پولیس کے حوالے#BOLNews #HassaanNiazi pic.twitter.com/jH751qwXCw
— BOL Network (@BOLNETWORK) March 26, 2023
دوران سماعت پولیس کی جانب سے حسان نیازی کے 2 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی تاہم عدالت نے ایک روزہ راہداری ریمانڈ کی منظوری دیتے ہوئے حسان نیازی کو پنجاب پولیس کے حوالے کردیا۔
بعدازاں راہداری ریمانڈ ملنے کے بعد پنجاب پولیس حسان نیازی کو لے کر روانہ ہوگئی تاہم حسان نیازی کے والد اور انکے وکلاء بھی انکے ہمراہ موجود تھے۔
‘ضمانت کے بعد دوبارہ گرفتاری سمجھ سے بالاتر ہے’
پیشی کے بعد عمران خان کے بھانجے حسان نیازی نے بول نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ضمانت کے بعد دوبارہ گرفتاری سمجھ سے بالاتر ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور کا جلسہ کامیاب رہا، عمران خان اب بھی پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حسان نیازی کی اسلام آباد کیس میں بھی ضمانت منظور
حسان نیازی نے مزید کہا کہ میرے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں نہیں زیور ہیں، لاہور میرا گھر ہے پنجاب پولیس لے جارہی ہے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
حسان نیازی کو ضمانت کے باوجود رہا نہیں کیا گیا، وکیل
حسان نیازی کے وکیل اقبال شاہ ایڈووکیٹ نے بھی بول نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے آج پولیس گردی کی مثال قائم کی، حسان نیازی کو ضمانت کے باوجود رہا نہیں کیا گیا۔
وکیل نے مزید کہا کہ رہائی کے بجائے مزید ریمانڈ کی استدعا کی گئی، مجسٹریٹ نے حسان نیازی کو ایک روزہ ریمانڈ پر پنجاب پولیس کے حوالے کیا۔
پس منظر
واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنما حسان نیازی کو 20 مارچ کو گرفتار کرلیا گیا تھا، انکے خلاف کار سرکار میں مداخلت اور اسلحہ دکھانے کے خلاف مقدمہ تھانہ رمنا میں اے ایس آئی خوبان شاہ کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق حسان نیازی کی گاڑی کو روکنے کی کوشش کی لیکن ڈرائیور نے پولیس اہلکاروں کے اوپر گاڑی چھڑائی، حسان نیازی نے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی، حسان نیازی کے ساتھ دوسرے شخص نے اسلحہ نکالا، دوسرا شخص گاڑی نکال کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا، دوران مزاحمت حسان نیازی کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
بعد ازاں 21 مارچ کو اسلام آباد کی مقامی عدالت نے پولیس کی درخواست پر حسان خان نیازی کے 2 روزہ جسمانی ریمانڈ کی منظوری دے دی تھی۔
23 مارچ کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر حسان نیازی کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں ڈیوٹی مجسٹریٹ مرید عباس کی عدالت پیش کیا گیا، عدالت نے پولیس کی جانب سے اُن کے مزید 2 روزہ جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔
24 مارچ کو اسلام آباد کی مقامی عدالت نے حسان نیازی کو ایک روزہ راہداری ریمانڈ پر کوئٹہ پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔
گزشتہ روز اسلام آباد اور کوئٹہ کی مقامی عدالت نے حسان نیازی کی ضمانت منطور کرلی تھی تاہم انہیں ضمانت ملنے کے باوجود رہا نہیں کیا گیا۔



















