پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی حمایت کرنے والے عام شہریوں میں دہشت پیدا کی جارہی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے جاری کردہ بیان میں عمران خان نے کہا کہ جیسا کہ 18 مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس میں دیکھا گیا، آج پھر پرامن پی ٹی آئی کارکنوں اور یہاں تک کہ ہمارے فوٹوگرافر پر پولیس اور سادہ لباس والے ایجنسیوں کے لوگوں سے حملہ کر کے گرفتار کرلیا۔
As witnessed in Judicial Complex on 18 March, today again peaceful PTI workers & even our photographer were attacked & arrested by police & plainclothes ppl from Agencies – the Namalooms. This is the height of provocation using violence against peaceful citizens & abducting them. pic.twitter.com/FU52wf2O5j
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) March 27, 2023
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ یہ پرامن شہریوں کے خلاف تشدد اور انہیں اغوا کرنے کے لیے اشتعال انگیزی کی انتہا ہے۔
چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ میری پارک کی گئی گاڑی پر بھی حملہ کیا گیا جس کے اندر کوئی بھی نہیں تھا۔
عمران خان نے مزید کہا کہ یہ خالص فاشزم ہے جو آئی جی اسلام آباد کے کہنے پر کیا جا رہا ہے جس کی پشت پناہی نیوٹرلز نے کی ہے تاکہ پی ٹی آئی کی حمایت کرنے والے عام شہریوں میں دہشت پیدا کی جا سکے۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے تو اس موقع پر ان کے آفیشل فوٹو گرافر اور 3 کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔
وکیل علی بخاری کے مطابق عمران خان کی گاڑی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے اندر داخلے کی اجازت مل گئی جبکہ پولیس نے ہائی کورٹ سائیڈ پر تمام گاڑیوں کو روک لیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی سات مقدمات میں عبوری ضمانت منظور
دوسری جانب پولیس نے پہلے تو عمران خان کی گاڑی کو ہائی کورٹ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی تاہم بعد میں گاڑی کو احاطۂ عدالت میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی جس کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی نے بائیومیٹرک تصدیق کرائی۔
رجسٹرار آفس عمران خان کی درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کیا جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ سماعت کرتے ہوئے عمران خان کی سات مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کی۔



















