Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

لاہور کے لیڈی ولنگٹن اسپتال میں لیڈی ڈاکٹر کی موت معمہ بن گئی

لاہور  کے لیڈی ولنگٹن اسپتال میں لیڈی ڈاکٹر   کی موت معمہ بن گئی۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کے لیڈی ولنگٹن اسپتال میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی 30 سالہ پی جی فور لیڈی ڈاکٹر نسیم اعجاز گائنی میں اسپیشلائزیشن کر رہی تھیں۔

 جمعہ کے روز ز نسیم اعجاز کی بہن کا ان سے رابطہ نہیں ہو سکا تو ان کی بہن نے ان کی دوست ڈاکٹر مہوش سے کہا کہ آپ برائے مہربانی اس کے کمرے میں جائیں اور دیکھیں وہ کال اٹینڈ نہیں کر رہی ہیں۔

ڈاکٹرنسیم کی دوست نے وہاں پہنچ کر ان کے کمرے کا دروازہ کھولا تو ڈاکٹر نسیم کمرے میں منہ کے بل پڑی ہوئی تھیں۔

ڈاکٹر نسیم کو فوری طور پر میو اسپتال لایا گیا  لیکن وہاں سے ڈیتھ ریسیو کا سرٹیفکیٹ بنا دیا گیا۔ اب اس طبعی موت سے جڑے کچھ اہم سوالات اور کچھ نام نہاد پریشر گروپ کی جانب سے مبینہ سیاست کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

نام نہاد پریشر گروپ کے کے مبینہ سربراہ نے جس طرح ایم ایس لیڈی ولنگٹن اسپتال ڈاکٹر صباحت کے ساتھ بہت بدتمیزی کی حالانکہ وہ بھی ایک ڈاکٹر ہے اور نام نہاد پریشر گروپ اس بات کا کریڈٹ لیتے ہیں کہ وہ ڈاکٹرز کے حقوق کے لیے نکلتے ہیں۔

ڈاکٹر نسیم کئی سالوں سے دل کے عارضے میں مبتلا تھیں اور ان کی بیماری کے حوالے سے ان کے گھر والے بخوبی واقف تھے۔ وہ الشفاء اسپتال سے اپنا علاج معالجہ جاری رکھے ہوئے تھیں۔

 جس دن ان کی طبی موت کا بتایا  گیا وہ ان دنوں چھٹی پر تھیں۔

ڈاکٹر نسیم کے ورثاء نے کسی بھی قانونی کاروائی سے معذرت کر لی حالانکہ پولیس کا یہ کہنا تھا کہ ان کا پوسٹ مارٹم کروایا جائے۔ ڈاکٹر نسیم کے ورثاء نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان دے کر ان کی ڈیڈ باڈی وصول کر لی۔

سروسز اسپتال میں نام نہاد پریشر گروپ کی زیادتیوں کا خمیازہ تمام ڈاکٹرز بھگتے ہیں یہاں پر اس نام نہاد پریشر گروپ کی چلتی ہے جو جونیئر ڈاکٹروں کو اچھے عہدوں پر فائز کیے ہوئے ہیں اس کے علاوہ تمام ڈاکٹرز ان کے بارے میں بخوبی جانتے ہیں۔

دوسری جانب کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی نے کمیٹی بھی تشکیل دے دی جو تین دن میں رپورٹ وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر محمود ایاز کو دے گی۔

فیملی کے ورثاء سے پوچھے بغیر پریس کانفرس کرنا اور ان کی بیٹی  سے متعلق سوشل میڈیا اور دیگر تمام جگہوں  پر باتیں کرنے پر بھی ان کے ورثاء شدید غم و غصے میں ہیں۔

متعلقہ خبریں