پاکستان نے امریکی صدر جوبائیڈن انتظامیہ کی جانب سے رواں ہفتے بلائی جانے والی جمہوریت کی سربراہی کانفرنس میں شرکت نہیں، صرف تعلق استوار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکا کی 29 مارچ کو جمہوریت پر دوسری سربراہی کانفرنس میں پاکستان کو شرکت کی دعوت سے متعلق ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے منعقدہ کانفرنس کے بارے میں پالیسی بیان جاری کردیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے جاری کردہ پالیسی بیان میں کہا کہ پاکستان کو کانفرنس میں مدعو کرنے پر امریکا اور شریک میزبان ممالک کے شکر گزار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام بطور متحرک جمہوریت، جمہوری اقدار سے گہری وابستگی رکھتے ہیں، پاکستانیوں کی نسلوں نے وقتاً فوقتاً جمہوریت، انسانی حقوق، بنیادی آزادیوں کے بارے میں اعتماد برقرار رکھا۔
ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ رواں ماہ قوم 1973ء کے آئین کی 50ویں سالگرہ منا رہی ہے، پاکستان کا آئین ملک میں جمہوری سیاست کا سرچشمہ ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم امریکا کے ساتھ اپنی دوستی کی قدر کرتے ہیں، بائیڈن انتظامیہ میں پاک، امریکا باہمی تعلق کافی حد تک وسیع تر ہوا ہے، علاقائی امن، استحکام اور خوشحالی کے لئے دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان 2021ء سے شروع ہونے والے اس سربراہی اجلاس کا حصہ نہیں رہا، تمام مطلوبہ ممالک کو کچھ قومی وعدے کرنے کی ضرورت تھی، پاکستان سربراہی اجلاس کے متحرک مرحلے پر ہونے کے باعث تعلق استوار رکھنا چاہتا ہے۔
ممتاز زہرا بلوچ نے مزید کہا کہ پاکستان جمہوری اصولوں، اقدار کے فروغ، مضبوطی کے لئے امریکا اور شریک میزبان ممالک کے ساتھ ہے، پاکستان میزبانوں سے مل کر انسانی حقوق اور انسداد بدعنوانی کے لئے کام کرتا رہے گا۔



















